ٹائم اور کلنڈر

متفرقات لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
متفرقات لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

فضائل عشرهء ذی الحجہ


بسم الله الرحمن الرحيم

فضائل عشرهء ذی الحجہ

اعداد: ابو عدنان علی محمد المحمدی المدنی

الحمد للہ رب العالمین والصلاۃ والسلام على رسولہ الکریم, أما بعد:
فأعوذ باللہ  السمیع العلیم من الشیطان الرجیم۔ بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ قال تعالى:  «وَالْفَجْرِ (1) وَلَيَالٍ عَشْرٍ (2) وَالشَّفْعِ وَالْوَتْرِ » (سورۃ الفجر: 1-3) قسم ہے فجر کی ! اور (ذی الحجہ کی ابتدائی) دس راتوں کی قسم, اور جفت اور طاق کی!۔
الله رب العالمین نے اپنے فضل وکرم سے  ہمارے لئے  کچھ ایسے ایام بنائے ہیں جن میں نیک اعمال کرنا زیادہ فضیلت وثواب کا باعث ہے, انہیں بابرکت ایام میں سے  مقدس ماہ ذی الحجہ کے ابتدائی دس دن ہیں جنہیں ہم عشرہء ذی الحجہ کے نام سے موسوم کرتے ہیں ۔  ان ایام کا اللہ کے ہاں بہت عظیم مقام ہیں اور ان میں نیک عمل کرنا اللہ کو بہت ہی محبوب ہے, کتاب وسنت میں ان ایام  كی اہمیت وفضیلت کے تعلق سے بہت سارے نصوص ہیں  جن سے ان کی اہمیت روزِ روشن کی طرح عیاں ہو جاتی ہے, آیئے ان ایام کی فضیلت پر ایک نظر ڈالتے ہیں:
1- قرآن پاک میں اللہ تعالى نے عشرہء ذو الحجہ  کی راتوں کی قسم کھائی ہے, اللہ رب العالمین کی ذات بہت عظیم ہے اور عظیم ذات عظیم چیز کی قسم کھاتی ہے, اللہ تعالى نے سورہ فجر میں ارشاد فرمایا: «وَالْفَجْرِ (1) وَلَيَالٍ عَشْرٍ (2) وَالشَّفْعِ وَالْوَتْرِ » (سورۃ الفجر: 1-3) قسم ہے فجر کی ! اور (ذی الحجہ کی ابتدائی) دس راتوں کی قسم, اور جفت اور طاق کی!۔
جمہور مفسرین کا ماننا ہے کہ یہاں عشرہ لیال سے ذو الحجہ کی ابتدائی دس راتیں مراد ہیں , امام ابن کثیر نے اسی بات کو صحیح قرار دیا ہے۔  
2- یہ وہی ایامِ معلومات ہیں جن میں اللہ تعالى نے اپنے ذکر کو مشروع قرار دیتے ہوئے فرمایا: ﴿لِّيَشْہَدُوْا مَنَافِعَ لَہُمْ وَيَذْكُرُوا اسْمَ اللہِ فِيْٓ اَيَّامٍ مَّعْلُوْمٰتٍ عَلٰي مَا رَزَقَہُمْ مِّنْۢ بَہِيْمَۃِ الْاَنْعَامِ۝۰ۚ فَكُلُوْا مِنْہَا وَاَطْعِمُوا الْبَاۗىِٕسَ الْفَقِيْرَ۝۲۸ۡ: تاکہ وہ اپنے لیے دینی اور دنیاوی فوائد حاصل کریں، اور چند متعین دنوں میں ان چوپایوں کو اللہ کے نام سے ذبح کریں جو اللہ نے بطور روزی انہیں دیا ہے، پس تم لوگ اس کا گوشت کھاؤ اور بھوکے فقیر کو بھی کھلاؤ۔
جمہور مفسرین کے یہاں ایامِ معلومات سے مراد عشرہء ذی الحجہ کے ایام ہیں,  اور اگر ایام معلومات سے مراد قربانی کے ایام ہیں پھر بھی دسواں دن یوم النحر اس عشرہ  میں داخل ہے۔
امام بخاری فرماتے ہیں: قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: ﴿وَاذْكُرُوا اللَّهَ فِي أَيَّامٍ مَعْلُومَاتٍ ﴾: أَيَّامُ الْعَشْرِ۔ ﴿وَالْأَيَّامُ الْمَعْدُودَاتُ﴾: أَيَّامُ التَّشْرِيقِ۔ (بَابُ فَضْلِ الْعَمَلِ فِي أَيَّامِ التَّشْرِيقِ ترجمہ: ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا کہ (اس آیت) ”اور اللہ تعالیٰ کا ذکر معلوم دنوں میں کرو“ میں ایام معلومات سے مراد ذی الحجہ کے دس دن ہیں اور «أيام المعدودات» سے مراد ایام تشریق ہیں۔
حافظ صلاح الدین یوسف V مذکورہ آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں:  ایام معلومات سے مراد ‘ ذبح  کے ایام "ایامِ تشریق" ہیں, جو یوم النحر (1۰ ذی الحجہ) اور تین دن اس کے بعد ہیں یعنی 11, 12 اور 13 ذو الحجہ۔ عام طو رپر ایامِ معلومات سے عشرہء ذو الحجہ اور ایامِ معدودات سے ایامِ تشریق مراد لیے جاتے ہیں , تاہم یہاں "معلومات" جس سیاق میں آیا ہے اس سے یہی معلوم ہوتا ہے کہ یہاں ایامِ تشریق مراد  ہیں ۔ واللہ اعلم۔
3- عشرہء ذو الحجہ کا حرمت والے مہینہ میں ہونا , چوں کہ ذو الحجہ کا مہینہ چار مقدس اور حرمت والے مہینوں میں سے ایک ہے۔ ان چار مہینوں کی جو فضیلت کتاب وسنت میں وارد ہوئی ہے گویا کہ وہ فضیلت اس عشرہ کی بھی ہے۔
عَنْ  أَبِي سَعِيدٍ الخدری I, قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ:" أَلَا إِنَّ أَحْرَمَ الْأَيَّامِ يَوْمُكُمْ هَذَا, أَلَا وَإِنَّ أَحْرَمَ الشُّهُورِ شَهْرُكُمْ هَذَا , أَلَا وَإِنَّ أَحْرَمَ الْبَلَدِ بَلَدُكُمْ هَذَا , أَلَا وَإِنَّ دِمَاءَكُمْ وَأَمْوَالَكُمْ عَلَيْكُمْ حَرَامٌ , كَحُرْمَةِ يَوْمِكُمْ هَذَا, فِي شَهْرِكُمْ هَذَا, فِي بَلَدِكُمْ هَذَا, أَلَا هَلْ بَلَّغْتُ"؟ قَالُوا: نَعَمْ, قَالَ: "اللَّهُمَّ اشْهَدْ". (رواہ ابن ماجہ: 3931- وصححہ الألبانی)
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے حجۃالوداع کے موقع پر فرمایا: ”آگاہ رہو! تمام دنوں میں سب سے زیادہ حرمت والا تمہارا یہ دن ہے، آگاہ رہو! تمام مہینوں میں سب سے زیادہ حرمت والا تمہارا یہ (ذو الحجہ کا)  مہینہ ہے، آگاہ رہو! شہروں میں سب سے زیادہ حرمت والا تمہارا یہ شہر ہے، آگاہ رہو! تمہاری جان، تمہارے مال ایک دوسرے پر اسی طرح حرام ہیں جیسے تمہارا یہ دن تمہارے اس مہینے میں، تمہارے اس شہر میں، آگاہ رہو! کیا میں نے تمہیں اللہ کا پیغام نہیں پہنچا دیا“؟، لوگوں نے عرض کیا: ہاں، آپ نے پہنچا دیا، آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا: ”اے اللہ تو گواہ رہ“۔
4- اس عشرہ میں کئی عظیم فضیلت والے ایام بھی ہیں جن کی وجہ سے اس عشرہ کی فضیلت دو چند ہو جاتی ہے, جیسے یوم الترویہ, یومِ عرفہ (سب سے زیادہ حرمت والا دن), یوم النحر(قربانی کا دن), لیلۃ المذدلفہ۔ ان ایام کی اپنی اپنی فضیلت ہے خاص طور سے عرفہ کے دن کی بڑی فضیلت ہے, اس دن روزہ رکھنے والے کے اگلے پچھلے دو سال کے گناہ معاف ہو جاتے ہیں, اتنی عظیم فضیلت کا دن اس عشرہ میں وارد ہےجس سے اس عشرہ کی فضیلت میں چار چاند لگ جاتے ہیں۔
5- اس عشرہ کے ایام دنیا کے سب سے افضل ایام ہیں, یہاں تک کہ ان ایام کے اعمال اللہ تعالى کو دیگر ایام کے اعمال سے زیادہ محبوب ہیں۔
عن جابرٍ رضي الله عنه؛ أن رسول الله - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قال: "أفضلُ أيامِ الدنيا العشرُ -يعني: عشرَ ذي الحجةِ-". قيل: ولا مثلُهن في سبيلِ الله؟ قال: "ولا مثلُهن في سبيلِ الله، إلا رجلٌ عَفَّرَ وجهه بالتراب" الحديث.
دنیا کے سب سے بہترین ایام عشرہء ذو الحجہ کے ایام ہیں , کہا گیا: کیا جہاد فی سبیل اللہ کے ایام بھی اس کے جیسے نہیں ہیں؟ فرمایا: نہیں, جہاد فی سبیل اللہ کے ایام  بھی اس کے جیسے نہیں ہیں, ہاں مگر یہ کہ کوئی آدمی اپنا چہرہ خاک آلود کر لے یعنی وہ شہید ہو جائے  تو اور بات ہے۔
قال الألبانی فی صحیح الترغیب: [صحيح لغيره] رواه البزار بإسناد حسن، وأبو يعلى بإسناد صحيح، ولفظه:
قال: "ما من أيامٍ أفضل عند الله من أيام عشر ذي الحِجَّة". قال: فقال رجل: يا رسول الله! هن أفضل أم عدتهن جهاداً في سبيل الله؟ قال: "هُنَّ أفضلُ مِن عِدَّتِهنَّ جهاداً في سبيل الله، إلا عفيرٌ يُعَفِّرُ وجهه في التراب" الحديث. ورواه ابن حبان في "صحيحه".
ابو یعلى کی روایت میں اس طرح ہے: عشرہء ذو الحجہ کے ایام سے افضل اللہ کے نزدیک کوئی ایام نہیں ہیں, راوی کہتے ہیں کہ ایک آدمی نے کہا: اے اللہ کے رسول! عشرہء ذو الحجہ کے دن افضل ہیں یا جہاد فی سبیل اللہ کے؟ آپ  ﷺ نے فرمایا: عشرہء ذو الحجہ کے ایام جہاد کے ایام سے بھی افضل ہیں, ہاں مگر یہ کہ آدمی اپنے چہرے ہی کو خاک لود کر لے تو اور بات ہے۔ (اسے ابن حبان نے اپنی صحیح میں روایت کیا ہے)۔
وعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: (مَا مِنْ أَيَّامٍ الْعَمَلُ الصَّالِحُ فِيهَا أَحَبُّ إِلَى اللَّهِ مِنْ هَذِهِ الْأَيَّامِ الْعَشْرِ) قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ وَلَا الْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ؟ قَالَ: (وَلَا الْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ إِلَّا رَجُلٌ خَرَجَ بِنَفْسِهِ وَمَالِهِ ثُمَّ لَمْ يَرْجِعْ مِنْ ذلك بشيء)
ترجمہ: سیدنا ابن عباس ﷠ سے روایت ہےکہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: عشرہء ذوالحجہ میں عمل صالح  کرنا اللہ تعالى کواتنا زیادہ محبوب ہے کہ اتنا دیگر ایام میں نہیں, صحابہ کرام نے عرض کیا:  اے اللہ کے رسول! جہاد فی سبیل اللہ سے بھی نہیں؟ آپ  نے فرمایا: ہاں جہاد فی سبیل اللہ بھی نہیں, مگر یہ کہ آدمی اپنی جان مال لے کر نکلے اور پھر کچھ واپس لیکر نہ لوٹے( یعنی سب کچھ لٹا دے, شہید ہو جائے تو اس کا عمل  یقیناً اللہ تعالى کو زیادہ  محبوب ہے)۔
معلوم ہوا کہ  عشرہ ذو الحجہ میں عمل کرنے والا شخص  اس مجاہد فی سبیل اللہ سے بھی افضل ہےجو اپنی جان ومال لیکر واپس آ جائے۔ اور اس مدت میں کئے جانے والے اعمال کا اجر بہت عظیم ہوگا۔
عشرہ ذو الحجہ میں کئے جانے والے بعض اعمال:
1- حج وعمرہ:  حج کا سب سےاہم رکن وقوفِ عرفہ بھی اسی عشرہ میں آتا ہے نیز عمرہ کرنا بھی ان ایام میں زیادہ ثواب کا باعث ہےاس لئے صاحبِ استطاعت کو چاہئے کہ وہ اس مدت میں اس عظیم عبادت کا اجر وثواب حاصل کرنے کی کوشش  کرے۔
2- روزہ: پیر اور جمعرات کا روزہ, بالخصوص عرفہ کا روزہ رکھنا بڑی فضیلت کا باعث ہے, حدیث پاک  میں اس کی بہت عظیم فضیلت آئی ہے چنانچہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا: «صِيَامُ يَوْمِ عَرَفَةَ أَحْتَسِبُ عَلَى اللَّهِ أَنْ يُكَفِّرَ السَّنَةَ الَّتِي قَبْلَهُ، وَالسَّنَةَ الَّتِي بَعْدَهُ» (صحیح مسلم: 1162) ترجمہ: "عرفہ کے دن کا روزہ ایسا ہے کہ میں امیدوار ہوں اللہ پاک سے کہ ایک سال اگلے اور ایک سال پچھلے گناہوں کا کفارہ ہو جائے"۔
3- صلاۃ: نماز اسلام کا دوسرا عظیم رکن ہے اس لئے ایک مسلمان کو ویسے تو ہمیشہ  نماز  با جماعت کا پابند ہونا چاہئے لیکن ان ایام میں نماز باجماعت کا خصوصی التزام کرنا چاہئے ۔ نیز نفلی نماز جیسے سنن رواتب, تہجد اور  چاشت  کی نماز کا بھی اہتمام کرنا چاہئے ۔
4- صدقہ وخیرات: صدقہ ایک عظیم عبادت ہے جو انسان کو مرنے کے بعد بھی نفع پہنچاتی رہتی  ہے, جیسا کہ  حدیث پاک میں ہے: عَنْ  أَبِي هُرَيْرَةَ I: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِذَا مَاتَ الْإِنْسَانُ انْقَطَعَ عَنْهُ عَمَلُهُ إِلَّا مِنْ ثَلَاثَةٍ، إِلَّا مِنْ صَدَقَةٍ جَارِيَةٍ، أَوْ عِلْمٍ يُنْتَفَعُ بِهِ، أَوْ وَلَدٍ صَالِحٍ يَدْعُو لَهُ ". (رواہ مسلم)
‏‏‏‏ ترجمہ:  سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا: ”جب انسان مر جاتا ہے تو اس کا عمل موقوف ہو جاتا ہے مگر تین چیزوں کا ثواب جاری رہتا ہے۔ ایک صدقہ جاریہ کا۔ دوسرے علم کا جس سے لوگ فائدہ اٹھائیں۔ تیسرے نیک بخت بچے کا جو اس کے لیے دعا کرے ۔“
معلو م ہوا کہ صدقہ کا فائدہ انسان کو مرنے کے بعد بھی ملتا رہتا ہے اس لئے ان ایام میں صدقہ وخیرات کا خصوصی خیال رکھا چاہئے ۔ انسان مرنے کے وقت بھی تمنا کرتا ہے کہ اے کاش کہ مجھے تھوڑی زندگی اور مل جاتی تو میں صدقہ کرتا۔
اللہ تعالى کا ارشاد ہے: ﴿وَاَنْفِقُوْا مِنْ مَّا رَزَقْنٰكُمْ مِّنْ قَبْلِ اَنْ يَّاْتِيَ اَحَدَكُمُ الْمَوْتُ فَيَقُوْلَ رَبِّ لَوْلَآ اَخَّرْتَنِيْٓ اِلٰٓى اَجَلٍ قَرِيْبٍ۝۰ۙ فَاَصَّدَّقَ وَاَكُنْ مِّنَ الصّٰلِحِيْنَ۝۱۰, (سورۃالمنافقون: 1۰) اور جو کچھ ہم نے تمہیں دے رکھا ہے اس میں سے (ہماری راہ میں) اس سے پہلے خرچ کرو  کہ تم میں سے کسی کو موت آجائے تو کہنے لگے اے میرے پروردگار مجھے تو تھوڑی دیر کی مہلت کیوں نہیں دیتا ؟ کہ میں صدقہ کروں اور نیک لوگوں میں ہوجاؤں۔
عَنْ  أَبِي هُرَيْرَة I، عَنِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: "مَا نَقَصَتْ صَدَقَةٌ مِنْ مَالٍ". ‏‏‏‏ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا: ”صدقہ دینے سے کو ئی مال نہیں گھٹا۔
5- ذکر واذکار: ذکر واذکار کی کتاب وسنت میں بڑی فضیلت وارد ہے بالخصوص ان ایام میں۔
عن ابن عباس L مرفوعا: "ما من أيام أعظم عند الله ولا أحب إليه العمل فيهن من أيام العشر, فأكثروا فيهن من التسبيح والتحميد والتكبير والتهليل". أخرجه الطبرانى فى "المعجم الكبير" (3/110/1)۔
ترجمہ: اللہ کے نزدیک ایامِ عشر سے زیادہ عظیم کوئی اور ایام نہیں اور نہ ہی دیگر ایام میں کوئی عمل اتنا محبوب ہے جتنا ان دنوں میں ہے لہذا کثرت سے تسبیح تحمید تکبیر اور تہلیل کیا کرو۔  (اس حدیث کو طبرانی نے معجم کبیر میں روایت کیا ہے)۔
اس حدیث میں جن چار کلمات کو پڑھنے کی رغبت دلائی گئی ہے دوسری حدیث میں ان کلمات کو افضل الکلام اور احب الکلام کہا گیا ہے۔
عن سمرة بن جندب I قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "أَفْضَلُ الْكَلَامِ أَرْبَعٌ: سُبْحَانَ اللَّهِ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ، وَلَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَاللَّهُ أَكْبَرُ"۔ وفي رواية: "أَحَبُّ الْكَلَامِ إِلَى اللَّهِ أَرْبَعٌ، سُبْحَانَ اللَّهِ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ، وَلَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَاللَّهُ أَكْبَرُ، لَا يَضُرُّكَ بِأَيِّهِنَّ بَدَأْتَ". (رواه مسلم 2137)۔
سمرہ بن جندب ﷜ سے روایت ہے کہ نبی کریم  صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا:  افضل کلام چار ہیں، سبحان اللہ، الحمدللہ، لا الہٰ الا اللہ، اللہ اکبر۔  ایک دوسری روایت میں ہے کہ: ”سب سے زیادہ پسند اللہ تعالیٰ کو چار کلمے ہیں «سُبْحَانَ اللهِ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ، وَلاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ، وَاللَّهُ أَكْبَرُ» ان میں سے جس کو چاہے پہلے کہے کوئی نقصان نہ ہو گا۔
قال الامام البخاری: كَانَ ابْنُ عُمَرَ، وَأَبُو هُرَيْرَةَ يَخْرُجَانِ إِلَى السُّوقِ فِي أَيَّامِ الْعَشْرِ يُكَبِّرَانِ وَيُكَبِّرُ النَّاسُ بِتَكْبِيرِهِمَا وَكَبَّرَ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ خَلْفَ النَّافِلَةِ (بَابُ فَضْلِ الْعَمَلِ فِي أَيَّامِ التَّشْرِيقِ). ترجمہ:  ابن عمر اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہما ان دس دنوں میں بازار کی طرف نکل جاتے اور لوگ ان بزرگوں کی تکبیر (تکبیرات) سن کر تکبیر کہتے اور محمد بن باقر رحمہ اللہ نفل نمازوں کے بعد بھی تکبیر کہتے تھے۔
ان کے علاوہ اور بہت سارے اعمال ہیں جو ان ایام میں کرنے چاہئے, مثلاً:
توبہ استغفار, درود وسلام, تلاوت ِقرآن پاک,  سلام کو عام کرنا, کھلانا کھلانا,  برالوالدین, صلہ رحمی , امر بالمعروف والنہی عن المنکر, پڑوسیوں کے ساتھ حسنِ سلوک, مہمان نوازی, میاں بیوی کے حقوق کی ادائیگی,  غض بصر, ایفاء عہد, یتیم ومسکینوں کا خصوص خیال رکھنا,  عید الاضحى کی تیاری اور اس کی ادائیگی , قربانی کی تیاری اور اس کی ادائیگی, صفائی ستھرائی کا خیال, بیماروں کی بیمار پرسی, کسبِ حلال کی کوشش کرنا, تعاون على البر والتقوى, تعلیم الاولاد۔
نوٹ: اس مضمون کی تیاری میں عربی کی ویب سائٹ صید الفوائد  سے بنیادی طور پر مدد لی گئی ہے۔

****

اعداد: ابو عدنان علی محمد المحمدی المدنی
24 ذو القعده 1441هـ بروز جمعرات موافق 16 جولائي 2020م

نماز کی فضیلت سے متعلق چند بشارتیں

بسم الله الرحمن الرحيم

نماز کی فضیلت سے متعلق چند بشارتیں


بقلم: عید العنزی  ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اردو ترجمہ: ابو عدنان علی محمد المحمدی

الحمد للہ رب العالمین والصلاۃ والسلام على سید المرسلین وبعد ...,
میرے مسلمان بھائی! نماز کی فضیلت سے متعلق چند  بشارتیں یا خوشخبریاں آپ کے سامنے پیش کر رہا ہوں:

1- پہلى  بشارت : نماز کو اس کےاول  وقت پر ادا کرنا سب سے افضل عمل ہے۔

عن أُمِّ فَرْوَةَ رضی اللہ عنہ، قَالَتْ: سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَيُّ الْأَعْمَالِ أَفْضَلُ؟ قَالَ: "الصَّلَاةُ فِي أَوَّلِ وَقْتِهَا"۔ [رواہ أبو داود 426- وصححہ الألبانی]
ترجمہ: ام فروہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا گیا: کون سا عمل افضل ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نماز کو اس کے اول وقت میں ادا کرنا۔
صحیحین کی روایت  میں اسے اللہ کے نزدیک سب سے محبوب عمل قرار دیا  ہے:
عن عَبْدِ اللَّهِ بن معسود I قَالَ سَأَلْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَيُّ الْعَمَلِ أَحَبُّ إِلَى اللَّهِ؟ قَالَ: «الصَّلاَةُ عَلَى وَقْتِهَا». متفق علیہ.
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہےکہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا اللہ تعالیٰ کے نزدیک کون سا عمل سب سے زیادہ پسند ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ وقت پر نماز پڑھنا۔

2- دوسری بشارت: نماز بندے اور اس کے رب کے درمیان تعلق کا ذریعہ ہے۔

عَنْ أَنَسٍ رضی اللہ عنہ قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ أَحَدَكُمْ إِذَا صَلَّى يُنَاجِي رَبَّهُ».رواہ البخاری۔
ترجمہ: حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم  صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا کہ جب تم میں سے کوئی نماز میں ہوتا ہے تو وہ اپنے رب سے سرگوشی کرتا رہتا ہے۔

3- تیسری بشارت: نماز دین کا سطون ہے۔

عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ، قَالَ: قَالَ رسول اللہ r: "رَأْسُ الْأَمْرِ الْإِسْلَامُ، وَعَمُودُهُ الصَّلَاةُ، وَذِرْوَةُ سَنَامِهِ الْجِهَادُ "۔ [رواہ الترمذی من الحدیث الطویل وقال حسن صحیح, وصححہ الألبانی]
ترجمہ: حضرت معاذ رضی اللہ  عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”دین کی اصل اسلام ہے اور اس کا ستون (عمود) نماز ہے اور اس کی چوٹی جہاد ہے“۔

4- چوتھی بشارت: نماز نور (روشنی) ہے۔

عَنْ أَبِي مَالِكٍ الأَشْعَرِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : الطُّهُورُ شَطْرُ الإِيمَانِ وَالْحَمْدُ لِلَّهِ تَمْلأُ الْمِيزَانَ، وَسُبْحَانَ اللهِ وَالْحَمْدُ لِلَّهِ تَمْلَآَنِ ، أَوْ تَمْلأُ، مَا بَيْنَ السَّمَاوَاتِ وَالأَرْضِ، وَالصَّلاَةُ نُورٌ, وَالصَّدَقَةُ بُرْهَانٌ وَالصَّبْرُ ضِيَاءٌ، وَالْقُرْآنُ حُجَّةٌ لَكَ، أَوْ عَلَيْكَ، كُلُّ النَّاسِ يَغْدُو فَبَايِعٌ نَفْسَهُ فَمُعْتِقُهَا، أَوْ مُوبِقُهَا. [رواہ مسلم والترمذيّ]
ابومالک اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: طہارت آدھے ایمان کے برابر ہے۔ اور «الحمد لله» بھر دے گا ترازو کو (یعنی اس قدر اس کا ثواب عظیم ہے کہ اعمال تولنے کا ترازو اس کے اجر سے بھر جائے گا) اور «سبحان الله» اور «الحمدلله» دونوں بھر دیں گے آسمانوں اور زمین کے بیچ کی جگہ کو (اگر ان کا ثواب ایک جسم کی شکل میں فرض کیا جائے) اور نماز نور ہے اور صدقہ دلیل ہے اور صبر روشنی ہے اور قرآن تیری دلیل ہے۔ دوسرے پر یا دوسرے کی دلیل ہے تجھ پر (یعنی اگر سمجھ کر پڑھے اور فائدہ اٹھائے تو تیری دلیل ہے نہیں تو دوسرے کو فائدہ ہو گا اور تو محرم رہے گا)، ہر ایک آدمی (بھلا ہو یا برا) صبح کو اٹھتا ہے یا پھر اپنے تئیں آزاد کرتا ہے (نیک کام کر کے اللہ کے عذاب سے) یا (برے کام کر کے) اپنے آپ کو تباہ کرتا ہے۔

5- پانچویں بشارت: نماز نفاق سے برأت  کا ذریعہ ہے۔

عَنْ  أَبِي هُرَيْرَةَ رضی اللہ عنہ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "إِنَّ أَثْقَلَ صَلَاةٍ عَلَى الْمُنَافِقِينَ صَلَاةُ الْعِشَاءِ، وَصَلَاةُ الْفَجْرِ، وَلَوْ يَعْلَمُونَ مَا فِيهِمَا لَأَتَوْهُمَا وَلَوْ حَبْوًا،,,, متفق علیہ۔
ترجمہ:  سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نماز عشاء اور فجر منافقوں پر بہت بھاری ہے۔ اگر اس کا اجر جانتے تو گھٹنوں کے بل چل کر آتے۔

6- نماز جہنم سے نجات کا ذریعہ ہے۔

عن عُمَارَةَ بْنِ رُؤَيْبَةَ رضی اللہ عنہ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: "لَنْ يَلِجَ النَّارَ أَحَدٌ صَلَّى، قَبْلَ طُلُوعِ الشَّمْسِ، وَقَبْلَ غُرُوبِهَا، يَعْنِي الْفَجْرَ، وَالْعَصْرَ "۔ متفق علیہ۔
ترجمہ: سیدنا عمارہ رضی اللہ عنہ نے کہا میں نے رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  سے سنا فرماتے تھے: ” وہ شخص کبھی دوزخ میں داخل نہیں ہوگا جس نے طلوع آفتاب سے پہلے اور غروب آفتاب سے پہلے نماز ادا کی۔“ یعنی فجر اور عصر کی۔

7- نماز برائیوں اور بے حیائیوں سے روکتی ہے۔

اللہ تعالى کا ارشاد ہے:  ﴿اُتْلُ مَآاُوْحِيَ اِلَيْكَ مِنَ الْكِتٰبِ وَاَقِـمِ الصَّلٰوۃَ۝۰ۭ اِنَّ الصَّلٰوۃَ تَنْہٰى عَنِ الْفَحْشَاۗءِ وَالْمُنْكَرِ۝۰ۭ [سورۃ العنکبوت: 45] ترجمہ: جو کتاب آپ کی طرف وحی کی گئی ہے اسے پڑھئے اور نماز قائم کریں یقیناً نماز بےحیائی اور برائی سے روکتی ہے۔

8- نماز بہت سی مصیبتوں میں مدد گار ہے۔

اللہ تعالى کا ارشا د ہے: ﴿وَاسْتَعِيْنُوْا بِالصَّبْرِ وَالصَّلٰوۃِ۝۰ۭ [سورہ بقرہ: 45] ترجمہ:  اور مدد لو صبر اور نماز کے ذریعہ۔

9- نماز با جماعت انفرادی نماز سے افضل ہے۔

عَنِ  ابْنِ عُمَرَ رضی اللہ عنہما، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: "صَلَاةُ الْجَمَاعَةِ، أَفْضَلُ مِنْ صَلَاةِ الْفَذِّ، بِسَبْعٍ وَعِشْرِينَ دَرَجَةً ". متفق علیہ۔
‏‏‏‏ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے  ہیں کہ رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے ارشاد فرمایا: ”جماعت کی نماز اکیلی نماز سے ستائیس درجہ افضل ہے۔“

10- نمازی کے لئے فرشتے رحمت ومغفرت کی دعا کرتے ہیں۔

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رضی اللہ عنہ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" الْمَلَائِكَةُ تُصَلِّي عَلَى أَحَدِكُمْ مَا دَامَ فِي مُصَلَّاهُ الَّذِي صَلَّى فِيهِ، مَا لَمْ يُحْدِثْ تَقُولُ: اللَّهُمَّ اغْفِرْ لَهُ اللَّهُمَّ ارْحَمْهُ". متفق علیہ۔
ترجمہ: ابوہریرہ رضی اللہ عنہ اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا : جب تک تم اپنے مصلے پر جہاں تم نے نماز پڑھی تھی، بیٹھے رہو اور ریاح خارج نہ کرو تو ملائکہ تم پر برابر درود بھیجتے رہتے ہیں۔ کہتے ہیں  «اللهم اغفر له اللهم ارحمه» ”اے اللہ! اس کی مغفرت کیجیئے، اے اللہ! اس پر رحم کیجیئے“۔

11- نمازی کے لئے  گناہوں کی مغفرت کی بشارت ہے۔

عَنْ  عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ رضی اللہ عنہ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: "مَنْ تَوَضَّأَ لِلصَّلَاةِ، فَأَسْبَغَ الْوُضُوءَ، ثُمَّ مَشَى إِلَى الصَّلَاةِ الْمَكْتُوبَةِ، فَصَلَّاهَا مَعَ النَّاسِ، أَوْ مَعَ الْجَمَاعَةِ، أَوْ فِي الْمَسْجِدِ، غَفَرَ اللَّهُ لَهُ ذُنُوبَهُ". رواہ مسلم۔
ترجمہ: ‏‏‏‏ سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے  سنا: ”جو شخص نماز کے لیے پورا وضو کرے پھر فرض نماز کے لیے (مسجد کو) چلے اور لوگوں کے ساتھ ,یا جماعت سے, یا مسجد میں نماز پڑھے تو اللہ اس کے گناہ بخش دے گا۔“

12- نمازی کے لئے خطاؤں کے جسم سے نکل جانے کی بشارت ہے۔

عَنْ  أَبِي هُرَيْرَةَ رضی اللہ عنہ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "أَرَأَيْتُمْ لَوْ أَنَّ نَهْرًا بِبَابِ أَحَدِكُمْ يَغْتَسِلُ مِنْهُ كُلَّ يَوْمٍ خَمْسَ مَرَّاتٍ، هَلْ يَبْقَى مِنْ دَرَنِهِ شَيْءٌ؟ قَالُوا: لَا يَبْقَى مِنْ دَرَنِهِ شَيْءٌ، قَالَ: فَذَلِكَ مَثَلُ الصَّلَوَاتِ الْخَمْسِ، يَمْحُو اللَّهُ بِهِنَّ الْخَطَايَا". متفق علیہ۔
ترجمہ: ‏‏‏‏ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے ارشاد فرمایا: ”بھلا دیکھو کہ اگر کسی کے دروازہ پر ایک نہر ہو کہ وہ اس میں ہر روز پانچ بار نہاتا ہو تو کیا اس کے بدن پر کچھ میل باقی رہے گا۔“ صحابہ رضی اللہ عنہم نے عرض کیا کہ نہیں۔ فرمایا: ”یہی مثال ہے پانچوں نمازوں کی کہ اللہ تعالیٰ اس کی برکت سے گناہوں کو صاف کر دیتا ہے۔“

13- نمازی کے لئےجنت میں ضیافت کی بشارت۔

عَنْ  أَبِي هُرَيْرَةَ رضی اللہ عنہ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، "مَنْ غَدَا إِلَى الْمَسْجِدِ أَوْ رَاحَ، أَعَدَّ اللَّهُ لَهُ فِي الْجَنَّةِ نُزُلًا، كُلَّمَا غَدَا أَوْ رَاحَ". متفق علیہ۔
ترجمہ: ‏‏‏‏ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے ارشاد فرمایا: ”جو شخص صبح کو یا شام کو مسجد گیا اللہ تعالیٰ نے اس کی جنت میں ضیافت تیار کی,   جب جب صبح یا شام  کو وہ گیا۔“

14- نمازی کا مسجد کی طرف اٹھنے والا ہر پہلا قدم خطاءکو مٹاتا ہے, اور ہر دوسرا قدم درجۃ بلند کرتا ہے۔

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رضی اللہ عنہ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "مَنْ تَطَهَّرَ فِي بَيْتِهِ، ثُمَّ مَشَى إِلَى بَيْتٍ مِنْ بُيُوتِ اللَّهِ لِيَقْضِيَ فَرِيضَةً مِنْ فَرَائِضِ اللَّهِ، كَانَتْ خَطْوَتَاهُ إِحْدَاهُمَا تَحُطُّ خَطِيئَةً، وَالأُخْرَى تَرْفَعُ دَرَجَةً".
ترجمہ: ‏‏‏‏ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے ارشاد فرمایا: ”جو اپنے گھر میں طہارت یعنی وضو کرے پھر اللہ کے کسی گھر میں جائے کہ اللہ کے فرضوں میں سے کسی فرض کو ادا کرے, تو اس کے قدم ایسے ہوں گے کہ ایک سے تو برائیاں مٹیں گی اور دوسرے سے درجے بڑھیں گے۔“

15- جو شخص نماز کے لئے جلدی آتا ہے اس کے لئے اجرِ عظیم کی بشارت ہے۔

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رضی اللہ عنہ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "لَوْ يَعْلَمُ النَّاسُ مَا فِي النِّدَاءِ وَالصَّفِّ الْأَوَّلِ ثُمَّ لَمْ يَجِدُوا إِلَّا أَنْ يَسْتَهِمُوا عَلَيْهِ لَاسْتَهَمُوا، وَلَوْ يَعْلَمُونَ مَا فِي التَّهْجِيرِ لَاسْتَبَقُوا إِلَيْهِ، وَلَوْ يَعْلَمُونَ مَا فِي الْعَتَمَةِ وَالصُّبْحِ لَأَتَوْهُمَا وَلَوْ حَبْوًا". متفق علیہ۔
ترجمہ: سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم  صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا: اگر لوگوں کو معلوم ہوتا کہ اذان کہنے اور پہلی صف میں نماز پڑھنے کا کتنا ثواب ہے۔ پھر ان کے لیے قرعہ ڈالنے کے سوائے اور کوئی چارہ باقی نہ رہتا، تو البتہ اس پر قرعہ اندازی ہی کرتے اور اگر لوگوں کو معلوم ہو جاتا کہ نماز کے لیے جلدی آنے میں کتنا ثواب ملتا ہے تو اس کے لیے دوسرے سے آگے بڑھنے کی کوشش کرتے۔ اور اگر لوگوں کو معلوم ہو جاتا کہ عشاء اور صبح کی نماز کا ثواب کتنا ہے، تو ضرور چوتڑوں کے بل گھسیٹتے ہوئے ان کے لیے آتے۔

16- نماز کا انتظار کرنے والا نمازی مسلسل نماز میں رہتا ہے۔

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رضی اللہ عنہ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "لَا يَزَالُ أَحَدُكُمْ فِي صَلَاةٍ، مَا دَامَتِ الصَّلَاةُ تَحْبِسُهُ، لَا يَمْنَعُهُ أَنْ يَنْقَلِبَ إِلَى أَهْلِهِ، إِلَّا الصَّلَاةُ". متفق عیلہ۔
ترجمہ: ‏‏‏‏ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے ارشاد فرمایا: ”آدمی مسلسل نماز ہی کی حالت میں رہتا ہے  جب تک نماز اس کو روکے ہوئے ہے،  (چوں کہ) اس کو گھر جانے سے نماز کے سوا کوئی اور چیز نہیں روکتی ہے۔“

17- جس نمازی کی آمین فرشتوں کی آمین کے موافق ہوگئی اس کے گزشتہ گناہ معاف کر  دئے جاتے ہیں۔

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" إِذَا قَالَ أَحَدُكُمْ آمِينَ، وَقَالَتْ: الْمَلَائِكَةُ فِي السَّمَاءِ آمِينَ فَوَافَقَتْ إِحْدَاهُمَا الْأُخْرَى غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ".
ترجمہ: سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب کوئی تم میں سے «آمين» کہے اور فرشتوں نے بھی اسی وقت آسمان پر «آمين» کہی۔ اس طرح ایک کی «آمين» دوسرے کی «آمين» کے ساتھ مل گئی تو اس کے پچھلے تمام گناہ معاف ہو جاتے ہیں۔

18- نمازی کے لئے اللہ کی حفظ وأمان کی بشارت۔

عن جُنْدَب الْقَسْرِيّ رضی اللہ عنہ، قال: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "مَنْ صَلَّى صَلَاةَ الصُّبْحِ، فَهُوَ فِي ذِمَّةِ اللَّهِ، فَلَا يَطْلُبَنَّكُمُ اللَّهُ مِنْ ذِمَّتِهِ بِشَيْءٍ، فَإِنَّهُ مَنْ يَطْلُبْهُ مِنْ ذِمَّتِهِ بِشَيْءٍ، يُدْرِكْهُ، ثُمَّ يَكُبَّهُ عَلَى وَجْهِهِ فِي نَارِ جَهَنَّمَ ". رواہ مسلم۔
ترجمہ: سیدنا جندب بن عبد اللہ قسری رضی اللہ عنہ سے روایت  ہے کہ رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے ارشاد فرمایا: ”جس آدمی نے صبح کی نماز پڑھی تو وہ اللہ کی ذمہ داری  (پناہ) میں ہے۔ پس اللہ تم سے اپنے کسی ذمہ کا مطالبہ نہیں کرے گا, سو اللہ اپنی پناہ کا حق جس سے طلب کرے گا اس کو نہ چھوڑے گا اور  اللہ اسے اوندھے منہ جہنم کی آگ میں ڈال دے گا۔“
( یہ حدیث دو معنوں کی محتمل ہے ایک یہ کہ جس نے صبح یعین فجر کی نماز ادا کر لی وہ اللہ کی امان میں آگیا لہذا کسی کے لئےجائز نہیں ہے کہ وہ اسے اذیت دے یا اس پر ظلم کرے اور اگر کسی نے ظلم کیا اذیت دی تو اللہ تعالى اس سے اپنی امان کا مطالبہ کرے اور اگر اللہ نے مطالبہ کیا تو اسے چھوڑے گا نہیں, دوسرا مفہوم یہ ہے کہ فجر کی نماز کو ترک نہ کرو ورنہ تمہارے اور تمہارے رب کے درمیان جو امان کا عہد ہے وہ ختم ہو جائے گا) مترجم۔

19- نمازی کے لئے قیامت کے دن مکمل نور کی بشارت۔

عَنْ بُرَيْدَةَ الْأَسْلَمِيِّ رضی اللہ عنہ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "بَشِّرِ الْمَشَّائِينَ فِي الظُّلَمِ إِلَى الْمَسَاجِدِ بِالنُّورِ التَّامِّ يَوْمَ الْقِيَامَةِ "[ قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ، مَرْفُوعٌ هُوَ صَحِيحٌ مُسْنَدٌ، وصححہ الألبانی]۔
ترجمہ: سیدنا بریدہ اسلمی رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: ”اندھیرے میں چل کر مسجد آنے والوں کو قیامت کے دن کامل نور (بھرپور اجالے) کی بشارت دے دو“۔

20- صلاۃِ عصر وفجر کی جماعت کی محافظت کرنے والے کے لئے جنت کی بشارت۔

عَنْ أَبِي مُوسَى رضی اللہ عنہ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "مَنْ صَلَّى الْبَرْدَيْنِ دَخَلَ الْجَنَّةَ"۔ متفق علیہ۔
ترجمہ: ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہےکہ نبی کریم  صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا: جس نے ٹھنڈے وقت کی دو نمازیں(فجر اور عصر, وقت پر) پڑھیں تو وہ جنت میں داخل ہو گا۔

21- نمازی کے لئے پلِ صراط پار کرکے جنت تک جانے کی بشارت۔

عن سلمان رضي اللہ عنہ قال: قال رَسُول اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الْمَسْجِدُ بَيْتُ كُلِّ تَقِيٍّ، وَقَدْ ضَمِنَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ لِمَنْ كَانَ الْمَسَاجِدُ بُيُوتَهُ الرَّوْحَ، وَالرَّحْمَةَ، وَالْجَوَازَ عَلَى الصِّرَاطِ إلى رضوان الله إلى الجنة» [رواه الطبراني وصححه الألباني].
ترجمہ: سیدنا سلمان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم نےارشاد فرمایا: مسجد ہر متقی  وپرہیز گار کا گھر ہے,اورتحقیق کہ اللہ عز وجل نے اس شخص کے لئے جس نے مساجد کو اپنا گھر بنایا رحمت اور پلِ صراط کو پار کرکے اللہ کی رضامند جنت تک پہنچنے  کی ضمانت دی ہے ۔
*****

بقلم: عید العنزی
ترجمہ واضافات: ابو عدنان علی محمد  المحمدی
استاد جامعہ محمدیہ منصورہ مالیگاؤں
بروز پیر,  بتاریخ : 6/ اپریل 2020م


فرشتوں کی دعاؤں کے مستحق کون؟


P

فرشتوں کی دعاؤں کے مستحق کون؟

یا
وہ خوش نصیب لوگ جن پر فرشتے صلاۃ بھیجتے ہیں

فرشتوں کے صلاۃ بھیجنے کا مفہوم:
فرشتوں کے صلاۃ بھیجنے کا مطلب ہے کہ فرشتے ان کے لئے (یعنی مؤمنین کے لئے یا کچھ مخصوص اعمال کرنے والوں کے لئے) رحمت ومغفرت کی دعا کرتے ہیں, جیسا کہ اللہ تعالى کا ارشاد ہے: ﴿ہُوَالَّذِيْ يُصَلِّيْ عَلَيْكُمْ وَمَلٰۗىِٕكَتُہٗ لِيُخْرِجَكُمْ مِّنَ الظُّلُمٰتِ اِلَى النُّوْرِ۝۰ۭ وَكَانَ بِالْمُؤْمِنِيْنَ رَحِيْمًا۝۴۳۔ [سورۃ أحزاب: 43]
ترجمہ: وہ اللہ ہی ہے جو تم پر رحمتیں بھیجتا ہے اور اس کے فرشتے (تمہارے لئے دعائے رحمت کرتے ہیں) تاکہ اللہ تمہیں ظلمتوں سے نکال کر نور حق تک پہنچا دےاور اللہ تعالیٰ مومنوں پر بہت ہی مہربان ہے۔
دوسرے مقام پر اللہ تعالى ان فرشتوں کی دعا کا تذکرہ کرتے ہو  ارشاد فرماتا  ہے جو اس کے عرش کو اٹھائے ہوئے ہیں: ﴿ اَلَّذِيْنَ يَحْمِلُوْنَ الْعَرْشَ وَمَنْ حَوْلَہٗ يُسَبِّحُوْنَ بِحَمْدِ رَبِّہِمْ وَيُؤْمِنُوْنَ بِہٖ وَيَسْتَغْفِرُوْنَ لِلَّذِيْنَ اٰمَنُوْا۝۰ۚ رَبَّنَا وَسِعْتَ كُلَّ شَيْءٍ رَّحْمَۃً وَّعِلْمًا فَاغْفِرْ لِلَّذِيْنَ تَابُوْا وَاتَّبَعُوْا سَبِيْلَكَ وَقِہِمْ عَذَابَ الْجَــحِيْمِ۝۷ [سورۃ غافر:7] ترجمہ: عرش کے اٹھانے والے اور اس کے پاس کے فرشتے اپنے رب کی تسبیح حمد کے ساتھ ساتھ کرتے ہیں اور اس پر ایمان رکھتے ہیں اور ایمان والوں کے لئے استغفار کرتے ہیں، کہتے ہیں کہ اے ہمارے پروردگار ! تو نے ہر چیز کو اپنی رحمت اور علم سے گھیر رکھا ہے، پس انہیں بخش دے جو توبہ کریں اور تیری راہ کی پیروی کریں اور تو انہیں دوزخ کے عذاب سے بھی بچا لے۔  
ان آیتوں سے فرشتوں کے صلاۃ بھیجنے کا مطلب واضح ہو گیا کہ ان کے صلاۃ کا مطلب ہے مومنین کے لئے رحمت ومغفرت کی دعا کرنا , اسی طرح جن اعمال کے کرنے پر یہ خوش خبری دی گئی ہے کہ جس نے ایسا کام کیا فرشتے ان صلاۃ بھیجتے ہیں اس کا مطلب بھی یہی ہے کہ فرشتے  ان کے لئے دعا کرتے ہیں , جیسا کہ آگے احادیث میں اس کا تذکرہ آ رہا ہے۔
فرشتوں کی دعاؤں کے مستحقین:
1- فرشتوں کی دعاؤں کا مستحق پہلا خوش نصیب بندہ  وہ ہے : جس نے طہارت (وضوء) کی حالت میں رات گزاری۔
دلیل: عَنِ ابْنِ عُمَرَ رضی اللہ عنہ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: (مَنْ بَاتَ طَاهِرًا بَاتَ فِي شِعَارِهِ مَلَكٌ فَلَمْ يَسْتَيْقِظْ إِلَّا قَالَ الْمَلَكُ: اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِعَبْدِكَ فُلَانٍ فَإِنَّهُ بَاتَ طَاهِرًا) [رواہ ابن حبان وغیرہ وقال الألبانی: حسن صحيح ((الصحيحة)) (2539)]
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: جس نے طہارت (وضو) کی حالت میں رات گزاری , اس کے بالوں میں ایک فرشتے نے رات گزاری , وہ شخص بیدار نہیں ہوتا  ہے مگر فرشتہ دعا کرتے ہوئے کہتا ہے: اے اللہ اپنے فلاں بندے کی مغفرت فرما اس لئے کہ اس نے طہارت (وضو) کی حالت میں رات گزاری ہے۔
اس کے علاوہ نیند سے پہلے وضوء کرنےکی فضیلت صحیحین میں اس طرح وارد ہے:
عَنِ البَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا أَتَيْتَ مَضْجَعَكَ، فَتَوَضَّأْ وُضُوءَكَ لِلصَّلاَةِ، ثُمَّ اضْطَجِعْ عَلَى شِقِّكَ الأَيْمَنِ، ثُمَّ قُلْ:
"اللَّهُمَّ أَسْلَمْتُ وَجْهِي إِلَيْكَ، وَفَوَّضْتُ أَمْرِي إِلَيْكَ، وَأَلْجَأْتُ ظَهْرِي إِلَيْكَ، رَغْبَةً وَرَهْبَةً إِلَيْكَ، لاَ مَلْجَأَ وَلاَ مَنْجَا مِنْكَ إِلَّا إِلَيْكَ، اللَّهُمَّ آمَنْتُ بِكِتَابِكَ الَّذِي أَنْزَلْتَ، وَبِنَبِيِّكَ الَّذِي أَرْسَلْتَ"،
فَإِنْ مُتَّ مِنْ لَيْلَتِكَ، فَأَنْتَ عَلَى الفِطْرَةِ، وَاجْعَلْهُنَّ آخِرَ مَا تَتَكَلَّمُ بِهِ». متفق علیہ۔
ترجمہ:  براء بن عازب (رضی اللہ عنہ) سے روایت ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھ سے فرمایا کہ "جب تم اپنی خواب گاہ میں آؤ تو نماز کی طرح وضو کرو، پھر اپنے داہنی جانب پر لیٹ جاؤ اس کے بعد یہ دعا پڑھو:
(دعاء کا ترجمہ) اے اللہ ! میں نے تجھ سے امیدوار اور خائف ہو کر اپنا منہ تیری طرف جھکا دیا اور (اپنا) ہر کام تیرے سپرد کردیا اور میں نے تجھے اپنا پشت و پناہ بنالیا اور میں یقین رکھتا ہوں کہ تجھ سے (یعنی تیرے غضب سے) تیرے پاس کے سوا کوئی جائے پناہ نہیں ہے۔ اے اللہ میں اس کتاب پر ایمان لایا جو تو نے نازل فرمائی ہے اور تیرے اس نبی پر (بھی) جسے تو نے (ہدایت خلق کے لئے) بھیجا ہے۔
  پس اگر تو اسی رات میں مرا تو ایمان پر مرے گا اور اس دعا کو اپنا آخری کلام بنا"۔
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ اگر کوئی شخص سونے سے پہلے وضوء کرے اور مذکورہ دعا پڑھ کر سو جائے اوراگر وہ مرجاتا ہے تو اس کی موت فطرت پر یعنی اسلام پر ہوگی۔

2-  فرشتوں کی دعاؤں کا مستحق دوسرا خوش نصیب بندہ وہ ہے جو نماز کا انتظار کرتے رہتا ہے۔
دلیل: عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «صَلَاةُ الرَّجُلِ فِي جَمَاعَةٍ تَزِيدُ عَلَی صَلَاتِهِ فِي بَيْتِهِ وَصَلَاتِهِ فِي سُوقِهِ بِضْعًا وَعِشْرِينَ دَرَجَةً وَذَلِکَ أَنَّ أَحَدَهُمْ إِذَا تَوَضَّأَ فَأَحْسَنَ الْوُضُوءَ ثُمَّ أَتَی الْمَسْجِدَ لَا يَنْهَزُهُ إِلَّا الصَّلَاةُ لَا يُرِيدُ إِلَّا الصَّلَاةَ فَلَمْ يَخْطُ خَطْوَةً إِلَّا رُفِعَ لَهُ بِهَا دَرَجَةٌ وَحُطَّ عَنْهُ بِهَا خَطِيئَةٌ حَتَّی يَدْخُلَ الْمَسْجِدَ فَإِذَا دَخَلَ الْمَسْجِدَ کَانَ فِي الصَّلَاةِ مَا کَانَتْ الصَّلَاةُ هِيَ تَحْبِسُهُ وَالْمَلَائِکَةُ يُصَلُّونَ عَلَی أَحَدِکُمْ مَا دَامَ فِي مَجْلِسِهِ الَّذِي صَلَّی فِيهِ يَقُولُونَ اللَّهُمَّ ارْحَمْهُ اللَّهُمَّ اغْفِرْ لَهُ اللَّهُمَّ تُبْ عَلَيْهِ مَا لَمْ يُؤْذِ فِيهِ مَا لَمْ يُحْدِثْ فِيهِ» رواہ مسلم۔
ترجمہ: حضرت ابوہریرہ (رضی اللہ عنہ) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ آدمی کا جماعت کے ساتھ نماز پڑھنا اس کا اپنے گھر میں نماز پڑھنے پر کچھ اوپر بیس درجہ زیادہ فضیلت رکھتا ہے اور یہ اس لئے کہ تم میں سے کوئی جب وضو کرتا اور خوب اچھی طرح وضو کرتا ہے پھر مسجد میں آتا ہے اسے نماز کے علاوہ کسی نے نہیں اٹھایا اور نہ ہی نماز کے علاوہ اس کا کسی چیز کا ارادہ ہے تو کوئی قدم نہیں اٹھاتا مگر اللہ تعالیٰ اس کے (ایک قدم) کے بدلہ میں اس کا ایک درجہ بلند فرما دیتا ہے اور اس کا ایک گناہ معاف فرما دیتا ہے یہاں تک کہ وہ مسجد میں داخل ہوجاتا ہے تو جب وہ مسجد میں داخل ہوتا ہے تو وہ نماز ہی کے حکم میں رہتا ہے جب تک کہ نماز اسے روکے رکھتی ہے اور فرشتے تمہارے لئے دعا کرتے رہتے ہیں جب تک کہ وہ اپنی اسی جگہ میں بیٹھا رہتا ہے جس میں اس نے نماز پڑھی ہے,  کہتے رہتے ہیں: اے اللہ! اس پر رحم فرما, اے اللہ! اس کی مغفرت فرما, اے اللہ! اس کی توبہ قبول فرما, جب تک کہ وہ بےوضو نہ ہو۔ (وہ فرشتے دعا ہی کرتے رہتے ہیں)۔

3- فرشتوں کی دعاؤں کا مستحق تیسرا خوش قسمت وہ   شخص ہے جس نے  پہلى صف میں نماز ادا کی۔
دلیل:  عَنِ الْبَرَاءِ بن عازب قَالَ: سمعت رَسُول اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: (إِنَّ اللَّهَ وَمَلَائِكَتَهُ يُصَلُّون عَلَى الصف الأول). [رواہ ابن حبان وأبو داود وابن ماجہ وغیرہم, وصححہ الألبانی]۔
ترجمہ:  براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے فرماتے ہوئے سنا کہ اللہ تعالى اور فرشتے پہلی صف میں نماز پڑھنے والوں پر صلاۃ بھیجتے ہیں, یعنی اللہ تعالى ان پر اپنی خصوصی رحمت کا نزول فرماتا ہے اور فرشتے ان کے لئے رحمت ومغفرت کی دعا کرتے رہتے ہیں۔

4- فرشتوں کی دعاؤں کا مستحق چوتھا خوش نصیب وہ شخص ہے جو ابتدائی صفوں میں نماز ادا کرے۔
دلیل: عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ، قال: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَخَلَّلُ الصُّفُوفَ مِنْ نَاحِيَةٍ إِلَى نَاحِيَةٍ يَمْسَحُ مَنَاكِبَنَا وَصُدُورَنَا وَيَقُولُ: "لَا تَخْتَلِفُوا فَتَخْتَلِفَ قُلُوبُكُمْ، وَكَانَ يَقُولُ: إِنَّ اللَّهَ وَمَلَائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى الصُّفُوفِ الْمُتَقَدِّمَةِ".
ترجمہ: براء بن عازب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  ہمارے کندھوں اور سینوں پر ہاتھ پھیرتے ہوئے (یعنی انہیں درست کرتے ہوئے) صفوں کے بیچ میں سے ایک کنارے سے دوسرے کنارے تک جاتے، اور فرماتے: ”اختلاف نہ کرو (یعنی آگے پیچھے نہ کھڑے ہو) ورنہ تمہارے دل مختلف ہو جائیں“ (یعنی ان میں پھوٹ پڑ جائے)  نیز فرماتے: ”اللہ تعالیٰ اگلی صفوں پر اپنی رحمتیں نازل فرماتا ہے، اور اس کے فرشتے ان کے لیے دعائیں کرتے ہیں“۔
عَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ اللهَ وَمَلَائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى الصَّفِّ الْأَوَّلِ". قَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ، وَعَلَى الثَّانِي؟ قَالَ: " إِنَّ اللهَ وَمَلَائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى الصَّفِّ الْأَوَّلِ ". قَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ، وَعَلَى الثَّانِي؟ قَالَ: " إِنَّ اللهَ وَمَلَائِكَتِهِ يُصَلُّونَ عَلَى الصَّفِّ الْأَوَّلِ " قَالُوا يَا رَسُولَ اللهِ، وَعَلَى الثَّانِي؟ قَالَ: "وَعَلَى الثَّانِي". [رواہ أحمد برقم: 22263 وغیرہ, وقال المحقق شعیب الأرناؤط ومن معہ: صحیح لغیرہ]
ترجمہ:  : حضرت ابو امامہ  رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا: ”بیشک اللہ تعالیٰ پہلی صفوں پر اپنی رحمت نازل فرماتا ہے اور فرشتے ان کے لئے دعا کرتے ہیں ۔ لوگوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! اور دوسری صف پر؟  آپ نے فرمایا: بیشک اللہ تعالیٰ پہلی صفوں پر اپنی رحمت نازل فرماتا ہے اور فرشتے ان کے لئے دعا کرتے ہیں ۔ لوگوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! اور دوسری صف پر؟ آپ نے فرمایا: بیشک اللہ تعالیٰ پہلی صفوں پر اپنی رحمت نازل فرماتا ہے اور فرشتے ان کے لئے دعا کرتے ہیں ۔ لوگوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! اور دوسری صف پر؟ آپ نے فرمایا: اور دوسری صف  پر بھی۔

5- فرشتوں کی دعاؤں کا مستحق پانچواں خوش نصیب وہ شخص ہے جو صفوں میں دائیں طرف کھڑا ہو۔
دلیل: عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ اللَّهَ وَمَلائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى مَيَامِينِ الصُّفُوفِ». [وقال شعیب الأرنؤوط فی تخریج شرح السنۃ: اسنادہ حسن]
ترجمہ: ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا: ”بیشک اللہ تعالیٰ ان لوگوں پہ اپنی رحمت نازل فرماتا ہے اور فرشتے دعا کرتے ہیں دائیں صفوں پر۔

6- فرشتوں کی دعاؤں کا مستحق چھٹا  خوش نصیب وہ شخص ہے جو صفوں کو متصل کرے۔
دلیل: عَنْ  عَائِشَةَ رضی اللہ عنہا، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "إِنَّ اللَّهَ وَمَلَائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى الَّذِينَ يَصِلُونَ الصُّفُوفَ، وَمَنْ سَدَّ فُرْجَةً رَفَعَهُ اللَّهُ بِهَا دَرَجَةً". [رواہ ابن ماجہ فی سننہ وصححہ الألبانی]
ترجمہ: ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا: ”بیشک اللہ تعالیٰ ان لوگوں پہ اپنی رحمت نازل فرماتا ہے اور فرشتے دعا کرتے ہیں جو صفیں جوڑتے ہیں، اور جو شخص صف میں خالی جگہ بھر دے تو اللہ تعالیٰ اس کے سبب اس کا ایک درجہ بلند فرمائے گا“۔

7- فرشتوں کی دعاؤں کا مستحق ساتواں  خوش نصیب وہ شخص ہے جو آمین کہے۔
دلیل: عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "إِذَا قَالَ أَحَدُكُمْ آمِينَ، وَقَالَتْ: الْمَلَائِكَةُ فِي السَّمَاءِ آمِينَ فَوَافَقَتْ إِحْدَاهُمَا الْأُخْرَى غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ". متفق علیہ
ترجمہ: حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سےروایت ہے کہ رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا کہ جب کوئی تم میں سے «آمين» کہے اور فرشتوں نے بھی اسی وقت آسمان پر «آمين» کہی۔ اس طرح ایک کی «آمين» دوسرے کے «آمين» کے ساتھ مل گئی تو اس کے پچھلے تمام گناہ معاف ہو جاتے ہیں۔

8- فرشتوں کی دعاؤں کا مستحق آٹھواں خوش نصیب وہ شخص ہے جو فجر اور عصر کی نماز با جماعت ادا کرے۔
دلیل: عن عَلِي رضی اللہ عنہ، قال: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: "مَنْ صَلَّى الْفَجْرَ، ثُمَّ جَلَسَ فِي مُصَلاهُ صَلَّتْ عَلَيْهِ الْمَلائِكَةُ، وَصَلاتُهُمْ عَلَيْهِ: اللهُمَّ اغْفِرْ لَهُ اللهُمَّ ارْحَمْهُ، وَمَنْ يَنْتَظِرُ الصَّلاةَ صَلَّتْ عَلَيْهِ الْمَلائِكَةُ وَصَلاتُهُمْ عَلَيْهِ: اللهُمَّ اغْفِرْ لَهُ اللهُمَّ ارْحَمْهُ"۔ [رواہ أحمد وحسّنہ أحمد شاکر]۔
ترجمہ:  حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جس نے فجر کی نماز پڑھی پھر وہ اپنی نماز کی جگہ بیٹھا رہا تو فرشتے اس کے لئے دعائیں کرتے رہتے ہیں , اور فرشتوں کی دعا یہ ہوتی ہے: اے اللہ! اس کی مغفرت فرما, اے اللہ اس پر رحم فرما, اور جو شخص نماز کے انتظار میں ہوتا ہے  تو فرشتے اس کے لئے بھی دعائیں کرتے رہتے ہیں , اور فرشتوں کی دعا یہ ہوتی ہے: اے اللہ! اس کی مغفرت فرما, اے اللہ اس پر رحم فرما۔

وعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ -صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- قَالَ: "يَجْتَمِعُ مَلَائِكَةُ اللَّيْلِ، وَمَلَائِكَةُ النَّهَارِ فِي صَلَاةِ الْفَجْرِ وَصَلَاةِ الْعَصْرِ، فَيَجْتَمِعُونَ فِي صَلَاةِ الْفَجْرِ، فَتَصْعَدُ مَلَائِكَةُ اللَّيْلِ، وَتَثْبُتُ مَلَائِكَةُ النَّهَارِ. وَيَجْتَمِعُونَ فِي صَلَاةِ الْعَصْرِ، فَتَصْعَدُ مَلَائِكَةُ النَّهَارِ، وَتَثْبُتُ مَلَائِكَةُ اللَّيْلِ. فَيَسْأَلُهُمْ رَبُّهُمْ كَيْفَ تَرَكْتُمْ عِبَادِي؟ فَيَقُولُونَ: أَتَيْنَاهُمْ وَهُمْ يُصَلُّونَ، وَتَرَكْنَاهُمْ وَهُمْ يُصَلُّونَ، فَاغْفِرْ لَهُمْ يَوْمَ الدِّينِ". [صحیح ابن خزیمۃ ونحوہ فی مسند الإمام أحمد وقال المحقق: اسنادہ صحیح]
ترجمہ: حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلى اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "رات اور دن کے فرشتے فجر اور عصر کی نماز میں اکٹھے ہوتے ہیں, چنانچہ جب فجر میں جمع ہوتے ہیں تو رات کے فرشتے چڑھ جاتے ہیں, اور دن کے فرشتے باقی رہتے ہیں, اور جب عصر میں جمع ہوتے ہیں تو دن کے فرشتے چڑھ جاتے ہیں,  اور رات کے فرشتے باقی رہتے ہیں, چنانچہ ان کا رب ان سے پوچھتا ہے (حالانکہ وسب کچھ جانتا ہے) میرے بندوں کو تم نے کس حالت میں چھوڑا؟ تو وہ کہتے ہیں: ہم ان کے پاس سے آئے اس حال میں کہ و نماز پڑھ رہے تھے, اور نماز ہی کی حالت میں ہم انہیں چھوڑ کر آئے ہیں, لہذا قیامت کے دن ان کی مغفرت فرما دینا"۔

9- فرشتوں کی دعاؤں کا مستحق نواں  خوش نصیب وہ شخص ہے جس نے نبی ﷺ پر  درود بھیجا۔
دلیل: عن عَبْد اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو رضی اللہ عنہ قال: مَنْ صَلَّى عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةً, صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَمَلَائِكَتُهُ سَبْعِينَ صَلَاةً, فَلْيُقِلَّ عَبْدٌ مِنْ ذَلِكَ أَوْ لِيُكْثِرْ. [حسنہ المنذری وأحمد شاکر]
ترجمہ:  عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جس نے رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم پر ایک مرتبہ درود بھیجا ,  تو اللہ تعالى اس پر ستر رحمتیں نازل فرمائے گا, اور فرشتے اس کے لیے ستر مرتبہ دعا کریں گے, لہذا بندے کو چاہیے کہ وہ یہ کہے یا اور زیادہ۔

10- فرشتوں کی دعاؤں کا مستحق دسواں  خوش نصیب وہ شخص ہے جو دوسرو ں کے لئے غائبانہ طور پر دعا کرے۔
دلیل: عن أم الدرداء رضی اللہ عنہا قالت: إِنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، كَانَ يَقُولُ: "دَعْوَةُ الْمَرْءِ الْمُسْلِمِ لِأَخِيهِ بِظَهْرِ الْغَيْبِ مُسْتَجَابَةٌ عِنْدَ رَأْسِهِ مَلَكٌ مُوَكَّلٌ كُلَّمَا دَعَا لِأَخِيهِ بِخَيْرٍ، قَالَ الْمَلَكُ الْمُوَكَّلُ بِهِ: آمِينَ وَلَكَ بِمِثْلٍ"۔ رواہ مسلم۔
ام الدرداء رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ  رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  فرماتے تھے: ”مسلمان کی دعا اپنے بھائی کے لیے پیٹھ پیچھے قبول ہوتی ہے اس کے سر کے پاس ایک فرشتہ معین ہے جب وہ اپنےے بھائی کی بہتری کی دعا کرتا ہے تو فرشتہ کہتا ہے آمین اور تم کو بھی یہی ملے گا۔“

11- فرشتوں کی دعاؤں کا مستحق گیارہواں خوش نصیب وہ شخص ہے جو راہِ خیر میں خرچ کرے۔
دلیل: عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رضی اللہ عنہ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "مَا مِنْ يَوْمٍ يُصْبِحُ الْعِبَادُ فِيهِ، إِلَّا مَلَكَانِ يَنْزِلَانِ، فَيَقُولُ أَحَدُهُمَا: اللَّهُمَّ أَعْطِ مُنْفِقًا خَلَفًا، وَيَقُولُ الْآخَرُ اللَّهُمَّ: أَعْطِ مُمْسِكًا تَلَفًا". متفق علیہ۔
‏‏‏‏ترجمہ:  سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے ارشاد فرمایا: ”جس وقت بندے صبح کرتے ہیں، دو فرشتے اترتے ہیں, ایک تو یہ کہتا ہے کہ: یا اللہ! خرچ کرنے والے کو اور دے، اور دوسرا کہتا ہے کہ: یا اللہ! بخیل کو تباہ کر۔“

12- فرشتوں کی دعاؤں کا مستحق بارہواں خوش نصیب وہ شخص ہے جو  روزہ رکھنے کے لئے سحری کا اہتمام کرے۔
دلیل: عن ابن عمر رضي الله عنهما قال: قال رسول الله صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "إنَّ اللهَ وملائكتة يصلون على المتسحرين". [أخرجہ ابن حبان وقال الألبانی فی صحح الترغیب والترہیب: حسن صحیح]۔
ترجمہ:  حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بیشک اللہ تعالیٰ ان لوگوں پہ اپنی رحمت نازل فرماتا ہے اور فرشتے دعا کرتے ہیں جو سحری کرتے ہیں۔

13- فرشتوں کی دعاؤں کا مستحق تیرہواں خوش نصیب وہ روزہ دار ہے جس کے پاس کچھ لوگ کھانا کھائیں۔
دلیل: عن أم عمارة بنت کعب الأنصارية رضى الله عنها: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ عَلَيْهَا، فَقَدَّمَتْ إِلَيْهِ طَعَامًا، فَقَالَ: «كُلِي»، فَقَالَتْ: إِنِّي صَائِمَةٌ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ الصَّائِمَ تُصَلِّي عَلَيْهِ الْمَلائِكَةُ إِذَا أُكِلَ عِنْدَهُ حَتَّى يَفْرُغُوا», وَرُبَّمَا قَالَ : «حَتَّى يَشْبَعُوا». [رواه الترمذى وقال: حديث حسن. وذكره الشيخ الألبانى فى (ضعيف الترمذى)].
ترجمہ:  ام عمارہ بنت کعب انصاریہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم  صلی اللہ علیہ وسلم  ان کے پاس آئے، انہوں نے آپ کو کھانا پیش کیا، تو آپ نے فرمایا: ”تم بھی کھاؤ“، انہوں نے کہا: میں روزہ سے ہوں تو رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا: ”روزہ دار کے لیے فرشتے استغفار کرتے رہتے ہیں، جب اس کے پاس کھایا جاتا ہے جب تک کہ کھانے والے فارغ نہ ہو جائیں“۔ بعض روایتوں میں ہے ”جب تک کہ وہ آسودہ نہ ہو جائیں“۔  امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔

14- فرشتوں کی دعاؤں کا مستحق چودہواں  خوش نصیب وہ شخص ہے جو مریض کی عیادت کرے۔
دلیل: عن عَلِي رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قال: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «مَنْ عَادَ مَرِيضًا بَكَرًا شَيَّعَهُ سَبْعُونَ أَلْفَ مَلَكٍ، كُلُّهُمْ يَسْتَغْفِرُ لَهُ حَتَّى يُمْسِيَ، وَكَانَ لَهُ خَرِيفٌ فِي الْجَنَّةِ، وَإِنْ عَادَهُ مَسَاءً شَيَّعَهُ سَبْعُونَ أَلْفَ مَلَكٍ كُلُّهُمْ يَسْتَغْفِرُ لَهُ، حَتَّى يُصْبِحَ وَكَانَ لَهُ خَرِيفٌ فِي الْجَنَّةِ» [رواہ أحمد وصححہ أحمد شاکر]
ترجمہ: حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جوشخص صبح کے وقت مریض کی عیادت کے لئے نکلے تو اس کے ساتھ ستر ہزار فرشتے نکلتے ہیں, سب کے سب اس کے لئے مغفرت کی دعا کرتے رہتے ہیں یہاں تک کہ شام ہو جائے, اور اس کے لیے جنت میں ایک باغ ہوتا ہے، جوشخص شام کے وقت مریض کی عیادت کے لئے نکلے تو اس کے ساتھ ستر ہزار فرشتے نکلتے ہیں, وہ اس کے لئے مغفرت کی دعا کرتے رہتے ہیں یہاں تک کہ صبح ہو جائے, اور اس کے لیے جنت میں ایک باغ ہوتا ہے۔

15- فرشتوں کی دعاؤں کا مستحق پندرہواں خوش نصیب وہ شخص ہے جو لوگوں کو خیر کی باتیں سکھلائے۔
دلیل: عَنْ أَبِي أُمَامَةَ الْبَاهِلِيِّ رضی اللہ عنہ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "إِنَّ اللَّهَ وَمَلَائِكَتَهُ وَأَهْلَ السَّمَوَاتِ وَالأَرْض حَتَّى النَّمْلَةَ فِي جُحْرِهَا، وَحَتَّى الْحُوتَ لَيُصَلُّونَ عَلَى مُعَلِّمِ النَّاسِ الْخَيْرَ " , [رواہ الترمذی وقال: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ صَحِيحٌ]۔
ترجمہ: حضرت ابوامامہ باہلی رضی اللہ عنہ  کہتے ہیں کہ رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے ارشاد فرمایا: ”بیشک اللہ تعالیٰ ان لوگوں پہ اپنی رحمت نازل فرماتا ہے نیز فرشتے دعا کرتے ہیں اور آسمان اور زمین والے یہاں تک کہ چیونٹیاں اپنی سوراخ میں اور مچھلیاں اس شخص کے لیے جو نیکی و بھلائی کی تعلیم دیتا ہے خیر و برکت کی دعائیں کرتی ہیں۔  (امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب صحیح ہے)۔

******

نوٹ:
اس مضمون کی بنیاد ایک چھوٹا سا عربی پمفلیٹ ہےجس کا عنوان ہے: أناس تصلى علیہم الملائکۃ, إعداد: عبد الرحمان العیسى, اسی کا ترجمہ کچھ اضافات کے ساتھ افادہ عامہ کے لئے نشر کیا جا رہا ہے۔

اردو ترجمہ واضافہ:
ابوعدنان علی محمد المحمدی
استاد جامعہ محمد منصورہ مالیگاؤں
5/4/2020م بروز اتوار