(طالبات کے تقریری مسابقے کے لیے مدلل تقریر)
الحمدُ للهِ الَّذِي خَلَقَ الْإِنسَانَ، وَعَلَّمَهُ الْبَيَانَ، وَجَعَلَ الْعَدْلَ قِوَامَ الْحَيَاةِ، وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى سَيِّدِ الْأَنَامِ، مُحَمَّدٍ ﷺ، الَّذِي أَرْسَىٰ دُعَائِمَ الْأَخْلَاقِ، وَأَحْيَا الضَّمَائِرَ بِنُورِ الْإِيمَانِ۔
اما بعد!
معزز جج صاحبان! قابلِ احترام اساتذہ کرام!
اور میری نہایت محترم، باوقار اور علم کی پیاسی بہنو!
السلام علیکن ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
انسان اگر عبادت کا پیکر ہو، لیکن اخلاق سے خالی ہو— اگر پیشانی سجدوں سے روشن ہو،
مگر دل انسانوں کے لیے تنگ ہو—
تو ایسی عبادت، ایسا دین، اور ایسا کردار
اسلام کی نظر میں ادھورا رہ جاتا ہے۔
آج میں اسی ادھورے پن کو مکمل کرنے والے عنوان پر گفتگو کرنے جا رہی ہوں،
اور وہ ہے: حقوق العباد کی اہمیت۔
یعنی انسانوں کے وہ حقوق، جو اگر ادا نہ ہوں تو عبادتیں بھی وزن کھو دیتی ہیں،
اور اگر ادا ہو جائیں تو عام انسان بھی ولی بن جاتا ہے۔
آئیے پہلے قرآن و حدیث کی روشنی میں حقوق العباد کی اہمیت کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں
اسلام نے انسان کو صرف اللہ سے جوڑنے کا نام نہیں رکھا، بلکہ انسان کو انسان سے جوڑنے کا نظام بھی عطا کیا ہے۔
اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے: وَاعْبُدُوا اللّٰهَ وَلَا تُشْرِكُوا بِهِ شَيْئًا ۖ وَبِالْوَالِدَيْنِ إِحْسَانًا وَبِذِي الْقُرْبَىٰ وَالْيَتَامَىٰ وَالْمَسَاكِينِ وَالْجَارِ ذِي الْقُرْبَىٰ وَالْجَارِ الْجُنُبِ وَالصَّاحِبِ بِالْجَنبِ وَابْنِ السَّبِيلِ (النساء: ٣٦)
ترجمہ: اور اللہ کی عبادت کرو، اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ، اور والدین کے ساتھ حسنِ سلوک کرو، اور رشتہ داروں، یتیموں، مسکینوں، قریب کے پڑوسی، دور کے پڑوسی، ساتھ بیٹھنے والے ساتھی اور مسافر کے حقوق ادا کرو۔
ذرا دیکھیے!
توحید کے فوراً بعد حقوق العباد کی فہرست آ جاتی ہے— گویا قرآن اعلان کر رہا ہے کہ
جو اللہ کا سچا بندہ ہے، وہ بندوں کا بھی خیرخواہ ہوگا۔
میری عزیز بہنو!
حقوق العباد کوئی معمولی معاملہ نہیں، یہ وہ قرض ہے جو روح پر چڑھ جائے تو قیامت تک اتارا جاتا ہے۔
نبی پاک ﷺ نے فرمایا: أَتَدْرُونَ مَنِ الْمُفْلِسُ؟
قَالُوا: الْمُفْلِسُ مَنْ لَا دِرْهَمَ لَهُ وَلَا مَتَاعَ۔ فَقَالَ ﷺ: إِنَّ الْمُفْلِسَ مِنْ أُمَّتِي مَنْ يَأْتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ بِصَلَاةٍ وَصِيَامٍ وَزَكَاةٍ، وَيَأْتِي وَقَدْ شَتَمَ هَذَا، وَضَرَبَ هَذَا، وَأَكَلَ مَالَ هَذَا… (صحيح مسلم)
ترجمہ: کیا تم جانتے ہو مفلس کون ہے؟
آپ ﷺ نے فرمایا: میری امت کا مفلس وہ ہے جو قیامت کے دن نماز، روزہ اور زکوٰۃ لے کر آئے گا، مگر اس نے کسی کو گالی دی ہوگی، کسی کو مارا ہوگا، اور کسی کا مال کھایا ہوگا۔
یہ حدیث ہمیں بتاتی ہے کہ حقوق العباد وہ تلوار ہے جو عبادتوں کی گردن پر بھی چل سکتی ہے۔
میری معزز بہنو!
طالبات کی زندگی ایسے ہے جیسے نرم مٹی—
جو سانچے میں ڈال دی جائے، وہی شکل اختیار کر لیتی ہے۔
آج اگر زبان میں شائستگی، نگاہ میں حیا، دل میں وسعت، اور رویّے میں انصاف پیدا ہو جائے— تو یہی طالبات کل ایک صالح معاشرے کی بنیاد بن جائیں گی۔
نبی کریم ﷺ نے فرمایا: لَيْسَ مِنَّا مَنْ لَمْ يَرْحَمْ صَغِيرَنَا، وَلَمْ يُوَقِّرْ كَبِيرَنَا (سنن الترمذي)
ترجمہ: وہ ہم میں سے نہیں جو چھوٹوں پر رحم نہ کرے اور بڑوں کا احترام نہ کرے۔
یہی احترام، یہی رحم— حقوق العباد کا سب سے خوبصورت چہرہ ہے۔
اسلام میں عورت کو دلوں کو جوڑنے والا پُل بنایا گیا ہے، دیوار نہیں۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: إِنَّ اللّٰهَ يَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالْإِحْسَانِ (النحل: ٩٠)
ترجمہ: بے شک اللہ عدل اور احسان کا حکم دیتا ہے۔
عدل قانون ہے، احسان حُسن ہے—
اور عورت کی فطرت میں حُسن کو زندہ کرنا اللہ نے ودیعت رکھا ہے۔
میری بہنو! یہ مقابلہ صرف زبان کا نہیں، یہ ضمیر کا امتحان ہے۔
اگر ہماری تقریر حقوق العباد کی گواہی دے
اور ہمارا کردار اس کا انکار کرے—
تو سمجھ لیجیے، ہم ہار گئے۔
مگر
اگر الفاظ دل سے نکلیں
اور عمل تک پہنچیں—
تو یہی تقریر عبادت بن جاتی ہے۔
آئیے!
ہم سجدوں والی طالبات بھی بنیں
اور اخلاق والی انسان بھی۔
اللہ تعالیٰ ہمیں
حقوق العباد کو سمجھنے،
ان کی حفاظت کرنے،
اور اپنی زندگیوں میں نافذ کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔
وَآخِرُ دَعْوَانَا أَنِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ۔