ٹائم اور کلنڈر

محبت رسول کے تقاضے؛ خطبہ جمعہ

خطبۂ جمعہ

محبتِ رسول ﷺ کے تقاضے

إِنَّ الْحَمْدَ لِلَّهِ، نَحْمَدُهُ وَنَسْتَعِينُهُ وَنَسْتَغْفِرُهُ، وَنَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ شُرُورِ أَنْفُسِنَا وَمِنْ سَيِّئَاتِ أَعْمَالِنَا، مَنْ يَهْدِهِ اللَّهُ فَلَا مُضِلَّ لَهُ، وَمَنْ يُضْلِلْ فَلَا هَادِيَ لَهُ، وَأَشْهَدُ أَنْ لَا إِلٰهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ.

أَمَّا بَعْدُ:

فَإِنَّ خَيْرَ الْحَدِيثِ كِتَابُ اللَّهِ، وَخَيْرَ الْهَدْيِ هَدْيُ مُحَمَّدٍ ﷺ، وَشَرَّ الْأُمُورِ مُحْدَثَاتُهَا، وَكُلَّ مُحْدَثَةٍ بِدْعَةٌ، وَكُلَّ بِدْعَةٍ ضَلَالَةٌ، وَكُلَّ ضَلَالَةٍ فِي النَّارِ.

أما بعد!

معزز حاضرینِ مجلس! اللہ تعالیٰ نے انسان کو بے شمار نعمتوں سے نوازا، مگر ان تمام نعمتوں میں سب سے عظیم نعمت ایمان ہے، اور ایمان کی سب سے بڑی علامت محبتِ رسولِ اکرم ﷺ ہے۔ یہی وہ محبت ہے جو مردہ دلوں کو زندگی عطا کرتی ہے، گمراہ انسان کو ہدایت کے راستے پر لاتی ہے، اور بندے کو اللہ تعالیٰ کی رضا، مغفرت اور جنت تک پہنچا دیتی ہے۔

محبت ایک ایسا جذبہ ہے جو جب دل میں جاگزیں ہو جاتا ہے تو انسان کی سوچ، اس کے اعمال، اس کی گفتگو، اس کے اخلاق، اس کی ترجیحات بلکہ اس کی پوری زندگی کو اپنے رنگ میں رنگ دیتا ہے۔ دنیا میں ہر شخص کسی نہ کسی سے محبت کرتا ہے؛ کوئی اپنے مال سے، کوئی اپنی اولاد سے، کوئی اپنے وطن سے، کوئی اپنی شہرت سے۔ لیکن ایک مومن کی محبتوں کا مرکز و محور صرف اور صرف اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ ہوتے ہیں۔

رسول اللہ ﷺ سے محبت کوئی اختیاری یا ثانوی مسئلہ نہیں، بلکہ ایمان کی بنیاد، اسلام کی روح اور نجات کا ذریعہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن مجید نے ایمان اور محبتِ رسول ﷺ کو ایک دوسرے سے جدا نہیں کیا، بلکہ واضح فرمایا کہ اگر دنیا کی تمام محبوب چیزیں رسول اللہ ﷺ کی محبت پر غالب آ جائیں تو انسان اللہ تعالیٰ کی ناراضی کا مستحق بن جاتا ہے۔

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

﴿قُلْ إِنْ كَانَ آبَاؤُكُمْ وَأَبْنَاؤُكُمْ وَإِخْوَانُكُمْ وَأَزْوَاجُكُمْ وَعَشِيرَتُكُمْ وَأَمْوَالٌ اقْتَرَفْتُمُوهَا وَتِجَارَةٌ تَخْشَوْنَ كَسَادَهَا وَمَسَاكِنُ تَرْضَوْنَهَا أَحَبَّ إِلَيْكُمْ مِنَ اللَّهِ وَرَسُولِهِ وَجِهَادٍ فِي سَبِيلِهِ فَتَرَبَّصُوا حَتَّىٰ يَأْتِيَ اللَّهُ بِأَمْرِهِ وَاللَّهُ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الْفَاسِقِينَ﴾ (التوبة: ٢٤)

ترجمہ: "آپ کہہ دیجیے! اگر تمہارے باپ، تمہارے بیٹے، تمہارے بھائی، تمہاری بیویاں، تمہارا خاندان، وہ مال جو تم نے کمایا ہے، وہ تجارت جس کے مندا پڑ جانے کا تمہیں خوف ہے، اور وہ مکانات جنہیں تم پسند کرتے ہو، اللہ، اس کے رسول اور اس کی راہ میں جہاد سے زیادہ تمہیں محبوب ہیں تو انتظار کرو، یہاں تک کہ اللہ اپنا فیصلہ لے آئے، اور اللہ نافرمان لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا۔"

یہ آیت اعلان کر رہی ہے کہ محبتِ رسول ﷺ محض زبان کا دعویٰ نہیں بلکہ ایمان کا معیار ہے۔

اسی طرح اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

﴿النَّبِيُّ أَوْلَىٰ بِالْمُؤْمِنِينَ مِنْ أَنْفُسِهِمْ﴾ (الأحزاب: ٦)

یعنی نبی ﷺ مؤمنوں پر ان کی اپنی جانوں سے بھی زیادہ حق رکھتے ہیں۔

اسی حقیقت کو رسول اللہ ﷺ نے نہایت واضح انداز میں بیان فرمایا:

«لَا يُؤْمِنُ أَحَدُكُمْ حَتَّىٰ أَكُونَ أَحَبَّ إِلَيْهِ مِنْ وَالِدِهِ وَوَلَدِهِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ».

(أخرجه البخاري: ١٥، ومسلم: ٤٤)

"تم میں سے کوئی شخص اس وقت تک کامل مومن نہیں ہو سکتا جب تک میں اسے اس کے والد، اس کی اولاد اور تمام لوگوں سے زیادہ محبوب نہ ہو جاؤں۔"

اللہ اکبر! غور کیجیے، نبی کریم ﷺ نے محبت کو ایمان کی تکمیل کی شرط قرار دیا۔ جس دل میں رسول اللہ ﷺ کی محبت غالب ہوگی، وہی دل سنت سے وابستہ ہوگا، وہی گناہوں سے بچے گا، وہی قربانی دے گا، اور وہی آخرت میں کامیاب ہوگا۔

حضراتِ محترم!

آج امتِ مسلمہ کا ایک بڑا المیہ یہ ہے کہ محبتِ رسول ﷺ کے دعوے تو بہت ہیں، نعرے بھی بلند ہوتے ہیں، محفلیں بھی سجتی ہیں، لیکن جب سنتِ رسول ﷺ پر عمل کرنے کی بات آتی ہے تو بہت سے لوگ پیچھے ہٹ جاتے ہیں۔ حالانکہ سچی محبت کا پہلا تقاضا اطاعت ہے، دعویٰ نہیں۔

اللہ تعالیٰ نے محبت کا معیار خود بیان فرما دیا:

﴿قُلْ إِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّونَ اللَّهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ اللَّهُ وَيَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوبَكُمْ وَاللَّهُ غَفُورٌ رَحِيمٌ﴾ (آل عمران: ٣١)

ترجمہ: "کہہ دیجیے! اگر تم اللہ سے محبت کرتے ہو تو میری پیروی کرو، اللہ تم سے محبت کرے گا اور تمہارے گناہ معاف کر دے گا، اور اللہ بہت بخشنے والا، نہایت رحم کرنے والا ہے۔"

ائمۂ تفسیر نے لکھا ہے کہ یہ آیت محبت کے ہر دعوے کی کسوٹی ہے۔ جو شخص رسول اللہ ﷺ کی سنت کی پیروی کرتا ہے، وہی اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی سچی محبت کا دعوے دار ہے، اور جو سنت سے اعراض کرتا ہے، اس کا دعویٰ محبت حقیقت سے خالی ہے۔

اسی لیے امام حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے تھے:

"کچھ لوگوں نے اللہ تعالیٰ کی محبت کا دعویٰ کیا تو اللہ تعالیٰ نے ان کی آزمائش کے لیے یہ آیت نازل فرمائی: ﴿قُلْ إِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّونَ اللَّهَ فَاتَّبِعُونِي...﴾"

لہٰذا محبتِ رسول ﷺ کا پہلا اور سب سے بڑا تقاضا اتباعِ سنت ہے، کیونکہ محبت بغیر اطاعت کے صرف ایک دعویٰ ہے، جبکہ اطاعت محبت کی سب سے مضبوط دلیل ہے۔



معزز مسلمانو!

جیسا کہ عرض کیا گیا، محبتِ رسول ﷺ کا پہلا اور سب سے بڑا تقاضا اتباعِ سنت ہے۔ محبت کا تقاضا یہی ہوتا ہے کہ محبوب کے طریقے کو اختیار کیا جائے، اس کی پسند کو اپنی پسند بنایا جائے اور اس کے حکم کو اپنی خواہشات پر مقدم رکھا جائے۔

اسی لیے اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا:

﴿وَمَا آتَاكُمُ الرَّسُولُ فَخُذُوهُ وَمَا نَهَاكُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوا﴾ (الحشر: ٧)

ترجمہ: "رسول تمہیں جو کچھ دیں، اسے لے لو، اور جس چیز سے روک دیں، اس سے رک جاؤ۔"

یہ آیت صرف مالِ غنیمت کے بارے میں نہیں، بلکہ مفسرین نے اس سے رسول اللہ ﷺ کے عمومی اوامر و نواہی کی اتباع کا اصول بھی بیان کیا ہے۔ پس مومن کی شان یہ ہے کہ وہ ہر معاملے میں رسول اللہ ﷺ کے فیصلے کو دل و جان سے قبول کرے۔

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

﴿فَلَا وَرَبِّكَ لَا يُؤْمِنُونَ حَتَّىٰ يُحَكِّمُوكَ فِيمَا شَجَرَ بَيْنَهُمْ، ثُمَّ لَا يَجِدُوا فِي أَنْفُسِهِمْ حَرَجًا مِمَّا قَضَيْتَ، وَيُسَلِّمُوا تَسْلِيمًا﴾ (النساء: ٦٥)

ترجمہ: "آپ کے رب کی قسم! یہ لوگ اس وقت تک مومن نہیں ہو سکتے جب تک اپنے باہمی اختلافات میں آپ کو فیصلہ کرنے والا نہ مان لیں، پھر آپ کے فیصلے پر اپنے دل میں کوئی تنگی نہ پائیں اور پوری طرح سرِتسلیم خم کر دیں۔"

یہاں اللہ تعالیٰ نے ایمان کے تین درجات بیان فرمائے:

- رسول اللہ ﷺ کو فیصلہ کرنے والا ماننا۔
- فیصلے پر دل میں کوئی تنگی نہ رکھنا۔
- مکمل رضا و خوشی کے ساتھ اسے قبول کرنا۔

یہی کامل اتباع ہے اور یہی محبتِ رسول ﷺ کی حقیقی علامت ہے۔

اسی طرح رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

«كُلُّ أُمَّتِي يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ إِلَّا مَنْ أَبَى». قِيلَ: وَمَنْ يَأْبَى يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: «مَنْ أَطَاعَنِي دَخَلَ الْجَنَّةَ، وَمَنْ عَصَانِي فَقَدْ أَبَى».

(أخرجه البخاري: ٧٢٨٠)

ترجمہ: "میری پوری امت جنت میں داخل ہوگی، سوائے اس شخص کے جو انکار کرے۔" صحابہ نے عرض کیا: "اللہ کے رسول! انکار کون کرتا ہے؟" فرمایا: "جس نے میری اطاعت کی وہ جنت میں داخل ہوگا، اور جس نے میری نافرمانی کی، اسی نے انکار کیا۔"

اللہ اکبر! جنت کا راستہ اطاعتِ رسول ﷺ ہے، اور نافرمانی درحقیقت جنت سے منہ موڑنے کے مترادف ہے۔

صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کی محبت کا معیار

صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کی محبت صرف جذباتی نہیں تھی بلکہ عملی تھی۔ رسول اللہ ﷺ کا ایک حکم سنتے ہی وہ اپنی خواہشات، عادات اور مفادات کو چھوڑ دیتے تھے۔

جب شراب کی حرمت نازل ہوئی تو مدینہ کی گلیوں میں شراب بہنے لگی۔ کسی نے یہ نہیں کہا کہ پہلے موجود شراب ختم کر لیتے ہیں یا کچھ مہلت دی جائے۔ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کا حکم سنتے ہی سب نے اسے فوراً چھوڑ دیا۔

حضرت عبد الله بن عمر رضی اللہ عنہما رسول اللہ ﷺ کے ہر عمل کی اس قدر پیروی کرتے تھے کہ سفر میں جن مقامات پر آپ ﷺ نے قیام فرمایا، وہاں قیام کرتے؛ جہاں نماز پڑھی، وہاں نماز پڑھتے؛ اور جس راستے سے گزرے، اسی راستے سے گزرنے کی کوشش کرتے۔ یہ محض ظاہری مشابہت نہیں تھی، بلکہ محبت کا بے مثال اظہار تھا۔

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:

«مَا مَسَسْتُ حَرِيرًا وَلَا دِيبَاجًا أَلْيَنَ مِنْ كَفِّ النَّبِيِّ ﷺ، وَلَا شَمِمْتُ رِيحًا قَطُّ أَطْيَبَ مِنْ رِيحِ النَّبِيِّ ﷺ».

(أخرجه البخاري: ٣٥٦١، ومسلم: ٢٣٣٠)

اس محبت نے صحابہ کو ایسا تابعِ سنت بنایا کہ ان کی پوری زندگی رسول اللہ ﷺ کے نقشِ قدم پر چلنے کی کوشش میں گزری۔

اتباعِ سنت کی ضرورت

آج ہم محبتِ رسول ﷺ کا اظہار مختلف طریقوں سے کرتے ہیں، لیکن ہمیں اپنے آپ سے یہ سوال بھی کرنا چاہیے:

- کیا ہماری نماز رسول اللہ ﷺ کی نماز کے مطابق ہے؟
- کیا ہماری خرید و فروخت سنت کے مطابق ہے؟
- کیا ہمارے اخلاق، معاملات اور گھریلو زندگی میں سنت کا رنگ نمایاں ہے؟
- کیا ہم اپنی اولاد کو سنت سکھا رہے ہیں؟
- کیا ہم اختلاف کے وقت قرآن و سنت کی طرف رجوع کرتے ہیں؟

اگر ان سوالات کا جواب اثبات میں ہے تو یہ محبتِ رسول ﷺ کی علامت ہے، اور اگر نہیں، تو ہمیں اپنے دعوائے محبت کا ازسرِنو جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔

حضراتِ محترم!

یاد رکھئے، محبت کا تقاضا صرف نعت پڑھنا یا جذباتی اظہار کرنا نہیں، بلکہ رسول اللہ ﷺ کے ہر صحیح ثابت شدہ حکم کو خوش دلی سے قبول کرنا، سنت کو زندہ کرنا، بدعات سے اجتناب کرنا، اور اپنی پوری زندگی کو سنتِ نبوی کے مطابق ڈھالنا ہے۔ یہی وہ محبت ہے جو قیامت کے دن رسول اللہ ﷺ کی شفاعت کا ذریعہ بنے گی، اور یہی وہ راستہ ہے جو بندے کو اللہ تعالیٰ کی رضا تک پہنچاتا ہے۔



معزز حاضرینِ جمعہ!

آج ہم محبتِ رسول ﷺ کے ایک اور اہم تقاضے کی بات کر رہے ہیں، اور وہ ہے آپ ﷺ کی عزت، ادب اور احترام۔

اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی ﷺ کو وہ مقام دیا ہے کہ ان کی عزت کرنا دراصل اللہ تعالیٰ کی عزت کرنا ہے، اور ان کی بے ادبی بہت بڑی خطرناک بات ہے۔

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

﴿إِنَّا أَرْسَلْنَاكَ شَاهِدًا وَمُبَشِّرًا وَنَذِيرًا ۝ لِتُؤْمِنُوا بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ وَتُعَزِّرُوهُ وَتُوَقِّرُوهُ وَتُسَبِّحُوهُ بُكْرَةً وَأَصِيلًا﴾ (الفتح: ٨-٩)

ترجمہ: "ہم نے آپ کو گواہ، خوشخبری دینے والا اور ڈرانے والا بنا کر بھیجا ہے، تاکہ تم اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لاؤ، ان کی مدد کرو، ان کی عزت اور ادب کرو، اور صبح و شام اللہ کی پاکی بیان کرو۔"

اس آیت میں صاف حکم ہے کہ ایمان کے ساتھ ساتھ رسول اللہ ﷺ کی عزت اور ادب بھی ضروری ہے۔ مفسرین نے بتایا ہے کہ «تُعَزِّرُوهُ» کا مطلب ہے نبی ﷺ کی مدد کرنا، اور «تُوَقِّرُوهُ» کا مطلب ہے ان کا پورا ادب اور احترام کرنا۔

اسی طرح اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَرْفَعُوا أَصْوَاتَكُمْ فَوْقَ صَوْتِ النَّبِيِّ...﴾ (الحجرات: ٢)

ترجمہ: "اے ایمان والو! اپنی آواز نبی ﷺ کی آواز سے اونچی نہ کرو، اور ان سے اونچی آواز میں ایسے بات نہ کرو جیسے آپس میں کرتے ہو، کہیں ایسا نہ ہو کہ تمہارے اعمال ضائع ہو جائیں اور تمہیں خبر بھی نہ ہو۔"

سوچیں! صرف آواز اونچی کرنے پر اتنی سخت تنبیہ ہے، تو پھر اندازہ کریں کہ نبی ﷺ کا ادب کتنا ضروری ہے۔

صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کا ادب

حضرت ثابت بن قیس رضی اللہ عنہ کی آواز قدرتی طور پر اونچی تھی۔ جب یہ آیت نازل ہوئی تو وہ بہت پریشان ہو گئے اور گھر میں بیٹھ گئے کہ شاید میرے اعمال ضائع ہو گئے۔

پھر نبی ﷺ نے ان کے بارے میں پوچھا اور انہیں خوشخبری دی کہ وہ جنتی ہیں۔

(أخرجه البخاري: ٣٦١٣، ومسلم: ١١٩)

یہ تھا صحابہ کا حال کہ وہ معمولی سی بات پر بھی نبی ﷺ کے ادب کی فکر کرتے تھے۔

محبت کا ایک اور تقاضا: نبی ﷺ کا دفاع

محبت صرف دل میں احساس کا نام نہیں، بلکہ اپنے محبوب کی عزت کی حفاظت بھی محبت کا حصہ ہے۔

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

﴿إِلَّا تَنْصُرُوهُ فَقَدْ نَصَرَهُ اللَّهُ﴾ (التوبة: ٤٠)

ترجمہ: "اگر تم نبی کی مدد نہیں کرو گے تو اللہ نے ان کی مدد اس وقت بھی کی تھی جب کفار نے انہیں نکال دیا تھا۔"

اس سے معلوم ہوتا ہے کہ نبی ﷺ کی مدد کرنا ایمان والوں کے لیے بہت بڑا شرف ہے۔

آج اگر کوئی شخص نبی ﷺ کی سنت کا مذاق اڑائے یا ان کی شان میں گستاخی کرے تو ہر مسلمان کی ذمہ داری ہے کہ وہ علم، حکمت اور شریعت کے دائرے میں رہ کر ان کا دفاع کرے۔ جذبات میں آ کر غلط طریقہ اختیار کرنا درست نہیں۔

محبت کا ایک اور تقاضا: درود و سلام کی کثرت

محبت کی ایک بڑی نشانی یہ بھی ہے کہ انسان اپنے محبوب کا ذکر بار بار کرے۔

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

﴿إِنَّ اللَّهَ وَمَلَائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى النَّبِيِّ...﴾ (الأحزاب: ٥٦)

ترجمہ: "اللہ اور اس کے فرشتے نبی ﷺ پر درود بھیجتے ہیں، اے ایمان والو! تم بھی ان پر درود و سلام بھیجو۔"

نبی ﷺ نے فرمایا:

«مَنْ صَلَّى عَلَيَّ صَلَاةً، صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ بِهَا عَشْرًا».

(مسلم: ٤٠٨)

ترجمہ: "جو مجھ پر ایک بار درود بھیجتا ہے، اللہ اس پر دس رحمتیں بھیجتا ہے۔"

اور فرمایا:

«الْبَخِيلُ مَنْ ذُكِرْتُ عِنْدَهُ فَلَمْ يُصَلِّ عَلَيَّ».

(ترمذی: ٣٥٤٦)

ترجمہ: "بخیل وہ ہے جس کے سامنے میرا ذکر ہو اور وہ درود نہ بھیجے۔"

اس لیے ایک سچے عاشقِ رسول ﷺ کی زبان درود سے کبھی خالی نہیں رہتی۔ وہ ہر وقت، ہر موقع پر درود شریف پڑھتا ہے۔

معزز مسلمانو!

یاد رکھیں! اگر واقعی ہمارے دل میں نبی ﷺ کی محبت ہے تو وہ ہماری زندگی میں نظر آنی چاہیے—ہمارے انداز میں، ہماری باتوں میں، ہمارے اخلاق میں اور ہمارے عمل میں۔

محبت صرف دعویٰ نہیں، بلکہ عمل سے ثابت ہوتی ہے۔



معزز حاضرینِ جمعہ!

محبتِ رسول ﷺ کا ایک نہایت اہم تقاضا یہ بھی ہے کہ انسان ہر حال میں سنتِ نبوی کو مضبوطی سے تھامے رکھے، خواہ حالات موافق ہوں یا مخالف، لوگ ساتھ دیں یا مخالفت کریں، دنیاوی مفاد حاصل ہو یا نقصان پہنچے۔ مومن کا معیار یہ نہیں کہ وہ آسانی کے وقت سنت پر عمل کرے اور آزمائش کے وقت اسے چھوڑ دے، بلکہ سچی محبت یہی ہے کہ ہر حال میں رسول اللہ ﷺ کی پیروی اختیار کی جائے۔

اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

﴿وَأَطِيعُوا اللَّهَ وَالرَّسُولَ لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُونَ﴾ (آل عمران: ١٣٢)

ترجمہ: "اللہ اور رسول کی اطاعت کرو، تاکہ تم پر رحم کیا جائے۔"

اور فرمایا:

﴿وَمَنْ يُطِعِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ فَقَدْ فَازَ فَوْزًا عَظِيمًا﴾ (الأحزاب: ٧١)

ترجمہ: "اور جو اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرے، وہ یقیناً بہت بڑی کامیابی حاصل کر لیتا ہے۔"

اس سے معلوم ہوا کہ دنیا و آخرت کی حقیقی کامیابی صرف اطاعتِ رسول ﷺ میں ہے۔

سنت کو زندہ کرنا

محبتِ رسول ﷺ کا ایک عظیم تقاضا یہ بھی ہے کہ ہم اپنی ذات، اپنے گھر، اپنے معاشرے اور اپنی نسلوں میں سنت کو زندہ کریں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

«مَنْ أَحْيَا سُنَّةً مِنْ سُنَّتِي قَدْ أُمِيتَتْ بَعْدِي، فَلَهُ مِنَ الْأَجْرِ مِثْلُ أُجُورِ مَنْ عَمِلَ بِهَا، لَا يَنْقُصُ ذٰلِكَ مِنْ أُجُورِهِمْ شَيْئًا».

(أخرجه الترمذي، كتاب العلم، وحسنه جماعة من أهل العلم)

ترجمہ: "جس شخص نے میری ایسی سنت کو زندہ کیا جو میرے بعد چھوڑ دی گئی تھی، اسے اس پر عمل کرنے والوں کے برابر اجر ملے گا، اور ان کے اجر میں بھی کوئی کمی نہیں ہوگی۔"

لہٰذا ہمیں چاہیے کہ نماز، اذکار، اخلاق، معاملات، لباس، دعوت، حسنِ معاشرت اور دیگر شعبوں میں سنت کو عام کریں، کیونکہ سنت کا احیاء محبتِ رسول ﷺ کا زندہ ثبوت ہے۔

بدعات سے اجتناب

جب سنت سے محبت ہوگی تو بدعت سے نفرت بھی ہوگی، کیونکہ بدعت سنت کا مقابلہ کرتی ہے۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

«مَنْ أَحْدَثَ فِي أَمْرِنَا هٰذَا مَا لَيْسَ مِنْهُ فَهُوَ رَدٌّ».

(أخرجه البخاري: ٢٦٩٧، ومسلم: ١٧١٨)

اور ایک روایت میں ہے:

«مَنْ عَمِلَ عَمَلًا لَيْسَ عَلَيْهِ أَمْرُنَا فَهُوَ رَدٌّ».

(أخرجه مسلم: ١٧١٨)

ترجمہ: "جس نے ہمارے اس دین میں کوئی ایسی نئی بات پیدا کی جو اس میں سے نہیں، وہ مردود ہے۔" اور دوسری روایت میں ہے: "جس نے ایسا عمل کیا جس پر ہمارا حکم نہیں، وہ مردود ہے۔"

اس لیے مومن کا طریقہ یہ ہے کہ وہ ہر عبادت اور ہر دینی عمل کو قرآن و سنت کے میزان پر پرکھتا ہے۔

صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم سے محبت

محبتِ رسول ﷺ کا تقاضا یہ بھی ہے کہ ہم ان عظیم ہستیوں سے محبت کریں جنہوں نے رسول اللہ ﷺ کا ساتھ دیا، دین کی خاطر اپنی جانیں اور مال قربان کیے، اور اسلام کو ہم تک پہنچانے کا ذریعہ بنے۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

«لَا تَسُبُّوا أَصْحَابِي، فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، لَوْ أَنَّ أَحَدَكُمْ أَنْفَقَ مِثْلَ أُحُدٍ ذَهَبًا، مَا بَلَغَ مُدَّ أَحَدِهِمْ وَلَا نَصِيفَهُ».

(أخرجه البخاري: ٣٦٧٣، ومسلم: ٢٥٤٠)

ترجمہ: "میرے صحابہ کو برا نہ کہو، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! اگر تم میں سے کوئی اُحد پہاڑ کے برابر سونا بھی خرچ کرے تو وہ ان کے ایک مُد بلکہ آدھے مُد کے برابر بھی نہیں ہو سکتا۔"

صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم سے محبت دراصل رسول اللہ ﷺ سے محبت کا حصہ ہے، کیونکہ یہی وہ مبارک جماعت ہے جسے اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی ﷺ کی صحبت کے لیے منتخب فرمایا۔

اہلِ بیت سے محبت

اسی طرح اہلِ بیتِ نبوی سے محبت بھی ایمان کا تقاضا ہے، لیکن یہ محبت قرآن و سنت کے مطابق، اعتدال کے ساتھ ہونی چاہیے؛ نہ غلو ہو اور نہ بے اعتنائی۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

«أُذَكِّرُكُمُ اللَّهَ فِي أَهْلِ بَيْتِي، أُذَكِّرُكُمُ اللَّهَ فِي أَهْلِ بَيْتِي».

(أخرجه مسلم: ٢٤٠٨)

ترجمہ: "میں تمہیں اپنے اہلِ بیت کے بارے میں اللہ سے ڈراتا ہوں، میں تمہیں اپنے اہلِ بیت کے بارے میں اللہ سے ڈراتا ہوں۔"

لہٰذا اہلِ بیت سے محبت، ان کا احترام اور ان کے حقوق کی رعایت بھی محبتِ رسول ﷺ کا اہم تقاضا ہے۔

موجودہ دور میں محبتِ رسول ﷺ کا عملی اظہار

آج محبتِ رسول ﷺ کا سب سے مؤثر اظہار یہ ہے کہ:

- ہم اپنی نماز کو سنت کے مطابق بنائیں۔
- اپنے گھروں میں سنت کو زندہ کریں۔
- اپنی اولاد کی تربیت سنت کی روشنی میں کریں۔
- جھوٹ، دھوکا، سود، رشوت، ظلم اور بددیانتی سے بچیں۔
- لوگوں کے ساتھ حسنِ اخلاق کا معاملہ کریں، کیونکہ رسول اللہ ﷺ اخلاق کے اعلیٰ ترین نمونہ تھے۔
- قرآن و سنت کی تعلیم کو عام کریں اور دین کی دعوت کو حکمت اور اچھے انداز سے لوگوں تک پہنچائیں۔

اگر ہماری زندگی میں یہ صفات پیدا ہو جائیں تو ہمارا دعویٰ محبتِ رسول ﷺ سچا ثابت ہوگا۔



معزز حاضرینِ جمعہ!

گزشتہ گفتگو میں ہم نے محبتِ رسول ﷺ کے مختلف تقاضوں کا ذکر کیا۔ حقیقت یہ ہے کہ محبتِ رسول ﷺ ایک ایسا جامع عنوان ہے جس کے اندر ایمان، اطاعت، اتباع، تعظیم، توقیر، نصرت، درود و سلام، سنت سے وابستگی، بدعات سے اجتناب، صحابۂ کرام اور اہلِ بیت رضی اللہ عنہم سے محبت، اور آپ ﷺ کی تعلیمات کو اپنی زندگی میں نافذ کرنا سب شامل ہیں۔

لیکن سوال یہ ہے کہ آج ہم اپنے دعوائے محبت کو کیسے سچا ثابت کریں؟

اس کا جواب قرآنِ کریم نے نہایت مختصر مگر جامع انداز میں دے دیا:

﴿قُلْ إِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّونَ اللَّهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ اللَّهُ وَيَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوبَكُمْ وَاللَّهُ غَفُورٌ رَحِيمٌ﴾ (آل عمران: ٣١)

"اے نبی! کہہ دیجیے: اگر تم اللہ سے محبت کرتے ہو تو میری پیروی کرو، اللہ تم سے محبت کرے گا اور تمہارے گناہ بخش دے گا، اور اللہ بہت بخشنے والا، نہایت رحم کرنے والا ہے۔"

غور کیجیے! اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب ﷺ کی محبت کو صرف جذبات کے ساتھ نہیں جوڑا، بلکہ اتباع کے ساتھ جوڑا ہے۔

محبت کا دعویٰ زبان سے کرنا آسان ہے، لیکن محبت کا ثبوت زندگی سے دینا مشکل ہے۔

اگر کوئی شخص کہے کہ میں رسول اللہ ﷺ سے محبت کرتا ہوں، لیکن نماز کی پابندی نہ کرے، سنت کی پروا نہ کرے، معاملات میں جھوٹ بولے، خرید و فروخت میں دھوکا دے، والدین کی نافرمانی کرے، بیوی بچوں کے حقوق ادا نہ کرے، پڑوسیوں کو تکلیف دے، مسلمانوں کی عزتوں سے کھیلے، غیبت اور چغلی کرے، تو اسے اپنے دعوائے محبت پر غور کرنا چاہیے۔

کیونکہ رسول اللہ ﷺ کی تعلیمات مسجد تک محدود نہیں تھیں؛ آپ ﷺ کی سنت بازار میں بھی تھی، گھر میں بھی تھی، سفر میں بھی تھی، جنگ میں بھی تھی، صلح میں بھی تھی، دوستوں کے ساتھ بھی تھی اور مخالفین کے ساتھ بھی۔

محبتِ رسول ﷺ اور حسنِ اخلاق

میرے بھائیو!

رسول اللہ ﷺ کی سیرت کا ایک عظیم باب حسنِ اخلاق ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی ﷺ کے اخلاق کی گواہی دیتے ہوئے فرمایا:

﴿وَإِنَّكَ لَعَلَىٰ خُلُقٍ عَظِيمٍ﴾ (القلم: ٤)

"اور بے شک آپ عظیم اخلاق کے بلند مرتبے پر فائز ہیں۔"

اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے جب رسول اللہ ﷺ کے اخلاق کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے فرمایا:

«كَانَ خُلُقُهُ الْقُرْآنَ».

(أخرجه مسلم: ٧٤٦)

"آپ ﷺ کا اخلاق قرآن تھا۔"

لہٰذا اگر ہم واقعی رسول اللہ ﷺ سے محبت کرتے ہیں تو ہماری زبانوں سے دوسروں کو امن ملنا چاہیے، ہمارے ہاتھوں سے کسی کو تکلیف نہیں پہنچنی چاہیے، ہمارے معاملات میں دیانت ہونی چاہیے، ہمارے گھروں میں شفقت ہونی چاہیے، اور ہمارے دلوں میں مسلمانوں کے لیے خیر خواہی ہونی چاہیے۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

«إِنَّمَا بُعِثْتُ لِأُتَمِّمَ صَالِحَ الْأَخْلَاقِ».

(أخرجه أحمد في المسند: ٨٩٥٢، وصححه أهل العلم بمجموع طرقه)

"مجھے اس لیے بھیجا گیا ہے کہ میں صالح اخلاق کی تکمیل کر دوں۔"

پس جس شخص کی زبان پر محبتِ رسول ﷺ کا ذکر ہو، مگر اس کے اخلاق سے لوگ پریشان ہوں، اسے اپنی اصلاح کی فکر کرنی چاہیے۔

محبتِ رسول ﷺ اور نماز

محترم بھائیو!

رسول اللہ ﷺ نے نماز کو اپنی آنکھوں کی ٹھنڈک قرار دیا۔ آپ ﷺ نے فرمایا:

«وَجُعِلَتْ قُرَّةُ عَيْنِي فِي الصَّلَاةِ».

(أخرجه النسائي: ٣٩٤٠، وأحمد: ١٤٠٦٩)

لہٰذا محبتِ رسول ﷺ کا ایک اہم تقاضا یہ ہے کہ ہم نماز کو اپنی زندگی کا مرکز بنائیں۔

آج ہم رسول اللہ ﷺ سے محبت کے دعوے تو کرتے ہیں، لیکن اگر نماز کے وقت ہماری دکانیں کھلی رہیں، کاروبار جاری رہے، موبائل ہاتھ میں رہے، اور مسجد کی صفیں خالی رہیں، تو ہمیں اپنے دل کا جائزہ لینا چاہیے۔

محبت ہمیں محبوب کے قریب لے جاتی ہے، اور رسول اللہ ﷺ کی سنت ہمیں نماز، ذکر، عبادت اور اللہ تعالیٰ کی بندگی کی طرف بلاتی ہے۔

محبتِ رسول ﷺ اور گھر کا ماحول

اے اللہ کے بندو!

اگر محبتِ رسول ﷺ ہمارے دلوں میں ہے تو ہمارے گھروں میں بھی اس کا اثر نظر آنا چاہیے۔

ہم اپنے بچوں کو صرف دنیاوی کامیابی کا راستہ نہ دکھائیں، بلکہ انہیں رسول اللہ ﷺ کی سیرت بھی سنائیں۔ انہیں بتائیں کہ نبی ﷺ کیسے نماز پڑھتے تھے، کیسے کھاتے تھے، کیسے سلام کرتے تھے، کیسے بچوں سے محبت کرتے تھے، کیسے بڑوں کا احترام کرتے تھے، کیسے کمزوروں کا خیال رکھتے تھے۔

گھر میں سنت کا ماحول پیدا کیجیے۔ بچوں کو سونے، جاگنے، کھانے، پینے، سلام کرنے، مسجد جانے اور والدین کے ساتھ حسنِ سلوک کی سنتیں سکھائیے۔

کیونکہ آج جس بچے کے دل میں رسول اللہ ﷺ کی محبت پیدا ہوگی، کل وہ فتنوں کے طوفان میں بھی اپنی شناخت برقرار رکھ سکے گا۔

محبتِ رسول ﷺ اور سنت کی دعوت

محبت کا ایک تقاضا یہ بھی ہے کہ ہم دوسروں تک رسول اللہ ﷺ کی تعلیمات پہنچائیں۔

لیکن دعوت کا طریقہ بھی رسول اللہ ﷺ ہی سے سیکھیں۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

﴿ادْعُ إِلَىٰ سَبِيلِ رَبِّكَ بِالْحِكْمَةِ وَالْمَوْعِظَةِ الْحَسَنَةِ وَجَادِلْهُمْ بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ﴾ (النحل: ١٢٥)

"اپنے رب کے راستے کی طرف حکمت اور اچھی نصیحت کے ساتھ دعوت دو، اور ان سے ایسے طریقے سے بحث کرو جو سب سے بہتر ہو۔"

لہٰذا محبتِ رسول ﷺ کا مطلب یہ نہیں کہ انسان جذبات میں آ کر بدزبانی کرے، ظلم کرے، کسی بے گناہ کو نقصان پہنچائے یا شریعت کے حدود سے تجاوز کرے۔ بلکہ رسول اللہ ﷺ کی سیرت ہمیں حکمت، عدل، صبر، رحمت اور حسنِ اخلاق سکھاتی ہے۔

رسول اللہ ﷺ کی محبت اور آخرت کی کامیابی

محترم حضرات!

رسول اللہ ﷺ سے محبت کا سب سے حسین ثمرہ یہ ہے کہ انسان قیامت کے دن اپنے محبوب ﷺ کے ساتھ ہو۔

ایک شخص نے رسول اللہ ﷺ سے عرض کیا:

«يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَتَى السَّاعَةُ؟»

آپ ﷺ نے فرمایا:

«وَمَاذَا أَعْدَدْتَ لَهَا؟»

اس نے عرض کیا:

"میں نے اس کے لیے بہت زیادہ نماز، روزہ اور صدقہ تو تیار نہیں کیا، البتہ میں اللہ اور اس کے رسول ﷺ سے محبت کرتا ہوں۔"

تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

«أَنْتَ مَعَ مَنْ أَحْبَبْتَ».

(أخرجه البخاري: ٦١٦٧، ومسلم: ٢٦٣٩)

"تم اسی کے ساتھ ہوگے جس سے تم محبت کرتے ہو۔"

حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اسلام لانے کے بعد ہمیں کسی بات سے اتنی خوشی نہیں ہوئی جتنی رسول اللہ ﷺ کے اس فرمان سے ہوئی کہ "تم اسی کے ساتھ ہوگے جس سے تم محبت کرتے ہو۔"

سوچئے! قیامت کے دن انسان کس کے ساتھ ہونا چاہتا ہے؟

اپنے مال کے ساتھ؟
اپنی جائیداد کے ساتھ؟
اپنی شہرت کے ساتھ؟
اپنی دنیاوی حیثیت کے ساتھ؟

نہیں!

ہم چاہتے ہیں کہ قیامت کے دن رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ہوں۔

تو آج اپنے دل میں سچی محبت پیدا کیجیے، اپنی زندگی کو سنت کے مطابق بنائیے، آپ ﷺ کے اخلاق اپنائیے، آپ ﷺ کی اطاعت کیجیے، آپ ﷺ کی تعلیمات کو اپنی اولاد تک پہنچائیے، اور ہر اس راستے سے بچیے جو سنت سے دور کرتا ہے۔

ایک آخری سوال

میرے محترم بھائیو!

آج جمعہ کے اس مبارک دن، چند لمحوں کے لیے اپنے دل سے پوچھیں:

کیا واقعی مجھے رسول اللہ ﷺ سب سے زیادہ محبوب ہیں؟

اگر ہاں، تو میری نماز کیسی ہے؟

میرا اخلاق کیسا ہے؟

میرے معاملات کیسے ہیں؟

میرے گھر کا ماحول کیسا ہے؟

میری زبان سے لوگوں کو راحت ملتی ہے یا تکلیف؟

میں سنت کو کتنا جانتا اور اس پر کتنا عمل کرتا ہوں؟

میں اپنے بچوں کو سیرتِ رسول ﷺ سے کتنا جوڑتا ہوں؟

میں نبی ﷺ کے نام پر درود کتنا پڑھتا ہوں؟

اگر ان سوالات کے جوابات ہماری زندگی میں سنت، اطاعت اور حسنِ اخلاق کی صورت میں موجود ہیں تو اللہ کا شکر ادا کیجیے۔

اور اگر کمی ہے تو آج ہی سے اصلاح کا آغاز کیجیے۔

محبت کا دروازہ آج بھی کھلا ہے۔

توبہ کا دروازہ آج بھی کھلا ہے۔

سنت کی طرف واپسی کا راستہ آج بھی کھلا ہے۔

بس ہمیں اپنے دل کو رسول اللہ ﷺ کی محبت کے لیے زندہ کرنا ہے۔

اَللَّهُمَّ ارْزُقْنَا حُبَّ نَبِيِّكَ مُحَمَّدٍ ﷺ، وَحُبَّ سُنَّتِهِ، وَالْعَمَلَ بِهَا، وَالدَّعْوَةَ إِلَيْهَا.

---

خطبۂ ثانیہ

إِنَّ الْحَمْدَ لِلَّهِ، نَحْمَدُهُ وَنَسْتَعِينُهُ وَنَسْتَغْفِرُهُ، وَنَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ شُرُورِ أَنْفُسِنَا وَمِنْ سَيِّئَاتِ أَعْمَالِنَا، مَنْ يَهْدِهِ اللَّهُ فَلَا مُضِلَّ لَهُ، وَمَنْ يُضْلِلْ فَلَا هَادِيَ لَهُ، وَأَشْهَدُ أَنْ لَا إِلٰهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ.

أَمَّا بَعْدُ!

فَيَا عِبَادَ اللَّهِ، اتَّقُوا اللَّهَ حَقَّ التَّقْوَى، وَاعْلَمُوا أَنَّ خَيْرَ الْهَدْيِ هَدْيُ مُحَمَّدٍ ﷺ، وَأَنَّ السَّعَادَةَ كُلَّ السَّعَادَةِ فِي اتِّبَاعِهِ وَالِاقْتِدَاءِ بِهِ.

قال الله تعالى:

﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَقُولُوا قَوْلًا سَدِيدًا ۝ يُصْلِحْ لَكُمْ أَعْمَالَكُمْ وَيَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوبَكُمْ وَمَنْ يُطِعِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ فَقَدْ فَازَ فَوْزًا عَظِيمًا﴾ (الأحزاب: ٧٠-٧١)

وقال سبحانه:

﴿إِنَّ اللَّهَ وَمَلَائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى النَّبِيِّ ۚ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا صَلُّوا عَلَيْهِ وَسَلِّمُوا تَسْلِيمًا﴾ (الأحزاب: ٥٦)

اللَّهُمَّ صَلِّ وَسَلِّمْ وَبَارِكْ عَلَىٰ عَبْدِكَ وَرَسُولِكَ مُحَمَّدٍ، وَعَلَىٰ آلِهِ وَأَصْحَابِهِ أَجْمَعِينَ.

اللَّهُمَّ إِنَّا نَسْأَلُكَ حُبَّكَ، وَحُبَّ نَبِيِّكَ مُحَمَّدٍ ﷺ، وَحُبَّ كُلِّ عَمَلٍ يُقَرِّبُنَا إِلَىٰ حُبِّكَ.

اللَّهُمَّ ارْزُقْنَا اتِّبَاعَ سُنَّةِ نَبِيِّكَ ﷺ، وَالِاقْتِدَاءَ بِهِ فِي أَقْوَالِنَا وَأَعْمَالِنَا وَأَخْلَاقِنَا.

اللَّهُمَّ أَحْيِنَا عَلَى السُّنَّةِ، وَأَمِتْنَا عَلَيْهَا، وَاحْشُرْنَا فِي زُمْرَةِ نَبِيِّكَ ﷺ.

اللَّهُمَّ أَصْلِحْ لَنَا دِينَنَا الَّذِي هُوَ عِصْمَةُ أَمْرِنَا، وَأَصْلِحْ لَنَا دُنْيَانَا الَّتِي فِيهَا مَعَاشُنَا، وَأَصْلِحْ لَنَا آخِرَتَنَا الَّتِي إِلَيْهَا مَعَادُنَا.

اللَّهُمَّ أَصْلِحْ شَبَابَ الْمُسْلِمِينَ، وَنِسَاءَ الْمُسْلِمِينَ، وَأَبْنَاءَ الْمُسْلِمِينَ، وَرُدَّهُمْ إِلَى دِينِكَ رَدًّا جَمِيلًا.

اللَّهُمَّ عَلِّمْنَا مَا يَنْفَعُنَا، وَانْفَعْنَا بِمَا عَلَّمْتَنَا، وَزِدْنَا عِلْمًا وَهُدًى وَتُقًى وَصَلَاحًا.

اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِلْمُسْلِمِينَ وَالْمُسْلِمَاتِ، وَالْمُؤْمِنِينَ وَالْمُؤْمِنَاتِ، الْأَحْيَاءِ مِنْهُمْ وَالْأَمْوَاتِ.

اللَّهُمَّ انْصُرِ الْإِسْلَامَ وَالْمُسْلِمِينَ، وَأَعْلِ كَلِمَةَ الْحَقِّ وَالدِّينِ.

اللَّهُمَّ آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً، وَفِي الْآخِرَةِ حَسَنَةً، وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ.



عباد الله!

﴿إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالْإِحْسَانِ وَإِيتَاءِ ذِي الْقُرْبَىٰ وَيَنْهَىٰ عَنِ الْفَحْشَاءِ وَالْمُنْكَرِ وَالْبَغْيِ ۚ يَعِظُكُمْ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُونَ﴾ (النحل: ٩٠)

فَاذْكُرُوا اللَّهَ يَذْكُرْكُمْ، وَاشْكُرُوهُ عَلَىٰ نِعَمِهِ يَزِدْكُمْ، وَلَذِكْرُ اللَّهِ أَكْبَرُ، وَاللَّهُ يَعْلَمُ مَا تَصْنَعُونَ.

أَقِمِ الصَّلَاةَ.

**********

 پورے خطبے «محبتِ رسول ﷺ کے تقاضے» کا خلاصہ خطیب کے لیے یاد رکھنے اور ترتیب کے ساتھ بیان کرنے کی غرض سے درج ذیل اہم نکات میں پیش کیا جا رہا ہے:

محبتِ رسول ﷺ کے تقاضے — خلاصۂ خطبہ

1. محبتِ رسول ﷺ ایمان کا حصہ ہے

رسول اللہ ﷺ کی محبت محض جذباتی وابستگی نہیں بلکہ ایمان کی بنیادی علامت ہے۔

حدیث: «لَا يُؤْمِنُ أَحَدُكُمْ حَتَّىٰ أَكُونَ أَحَبَّ إِلَيْهِ مِنْ وَالِدِهِ وَوَلَدِهِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ» (بخاری: ١٥، مسلم: ٤٤)



2. محبت کا پہلا تقاضا: اتباعِ رسول ﷺ

سچی محبت کا سب سے بڑا ثبوت رسول اللہ ﷺ کی پیروی ہے۔

﴿قُلْ إِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّونَ اللَّهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ اللَّهُ﴾ (آل عمران: ٣١)

اپنی خواہش، رواج اور ذاتی پسند پر سنت کو مقدم کرنا۔



3. رسول اللہ ﷺ کے فیصلے کو دل سے قبول کرنا

﴿فَلَا وَرَبِّكَ لَا يُؤْمِنُونَ حَتَّىٰ يُحَكِّمُوكَ﴾ (النساء: ٦٥)

صرف ظاہری اطاعت نہیں بلکہ دل کی رضامندی اور مکمل تسلیم و رضا بھی ضروری ہے۔



4. تعظیم و توقیرِ رسول ﷺ

آپ ﷺ کی آواز، نام، احکام اور سنت کا ادب کرنا۔

﴿وَتُعَزِّرُوهُ وَتُوَقِّرُوهُ﴾ (الفتح: ٩)

﴿لَا تَرْفَعُوا أَصْوَاتَكُمْ فَوْقَ صَوْتِ النَّبِيِّ﴾ (الحجرات: ٢)



5. نصرتِ رسول ﷺ

آپ ﷺ کی تعلیمات، سنت اور عزت کا علم و حکمت اور شرعی حدود کے اندر رہتے ہوئے دفاع کرنا۔

جذباتی ردعمل کے بجائے سیرتِ نبوی کے مطابق عدل، حکمت اور حسنِ اخلاق اختیار کرنا۔



6. کثرت سے درود و سلام

﴿إِنَّ اللَّهَ وَمَلَائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى النَّبِيِّ﴾ (الأحزاب: ٥٦)

ایک مرتبہ درود پڑھنے پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے دس رحمتیں۔

حدیث: «مَنْ صَلَّى عَلَيَّ صَلَاةً، صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ بِهَا عَشْرًا» (مسلم: ٤٠٨)



7. سنت کو زندہ کرنا

اپنے گھر، مسجد، معاشرے اور نئی نسل میں سنت کو عام کرنا۔

صحیح سنت معلوم کرنا، اس پر عمل کرنا اور دوسروں تک پہنچانا۔



8. بدعات سے اجتناب

محبتِ رسول ﷺ کا مطلب یہ ہے کہ آپ ﷺ کے بتائے ہوئے طریقے کو کافی سمجھا جائے۔

حدیث: «مَنْ أَحْدَثَ فِي أَمْرِنَا هٰذَا مَا لَيْسَ مِنْهُ فَهُوَ رَدٌّ» (بخاری: ٢٦٩٧، مسلم: ١٧١٨)



9. صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم سے محبت

صحابہ رسول اللہ ﷺ کے تربیت یافتہ اور دین ہم تک پہنچانے والے ہیں۔

ان کی عزت و محبت محبتِ رسول ﷺ کا لازمی تقاضا ہے۔

حدیث: «لَا تَسُبُّوا أَصْحَابِي» (بخاری: ٣٦٧٣، مسلم: ٢٥٤٠)



10. اہلِ بیت سے محبت



اہلِ بیتِ رسول ﷺ سے محبت، احترام اور ان کے حقوق کی رعایت۔

ساتھ ہی غلو اور افراط و تفریط سے اجتناب۔

حدیث: «أُذَكِّرُكُمُ اللَّهَ فِي أَهْلِ بَيْتِي» (مسلم: ٢٤٠٨)


11. محبتِ رسول ﷺ اور حسنِ اخلاق



رسول اللہ ﷺ کے اخلاق کو اپنی زندگی کا نمونہ بنانا۔

﴿وَإِنَّكَ لَعَلَىٰ خُلُقٍ عَظِيمٍ﴾ (القلم: ٤)

گھر، بازار، مسجد اور معاشرے میں اچھا اخلاق اختیار کرنا۔


12. محبتِ رسول ﷺ اور نماز



نماز کی پابندی اور اسے سنتِ نبوی کے مطابق ادا کرنا۔

عبادت کو محض رسم نہیں بلکہ محبت اور بندگی کا ذریعہ بنانا۔


13. گھروں میں سیرت و سنت کا ماحول



اولاد کو سیرتِ رسول ﷺ پڑھانا۔

روزمرہ زندگی کی مسنون دعائیں، آداب اور اخلاق سکھانا۔

گھر کو سنت کا عملی مدرسہ بنانا۔


14. دعوتِ دین میں طریقۂ رسول ﷺ اختیار کرنا



حکمت، نرمی، حسنِ اخلاق اور اچھی نصیحت کے ساتھ دعوت دینا۔

﴿ادْعُ إِلَىٰ سَبِيلِ رَبِّكَ بِالْحِكْمَةِ وَالْمَوْعِظَةِ الْحَسَنَةِ﴾ (النحل: ١٢٥)


15. محبت کا حقیقی امتحان



دعویٰ زبان سے نہیں، کردار سے ثابت ہوتا ہے۔

نماز، اخلاق، معاملات، گھر، تجارت اور معاشرت میں سنت کا اثر نظر آنا چاہیے۔


16. محبتِ رسول ﷺ کا عظیم ثمرہ



قیامت میں محبوب کے ساتھ ہونے کی بشارت:

«أَنْتَ مَعَ مَنْ أَحْبَبْتَ» (بخاری: ٦١٦٧، مسلم: ٢٦٣٩)

لہٰذا دنیا میں جس سے سچی محبت ہو، اسی کے طریقے کو اختیار کرنا چاہیے۔


خطبے کا مرکزی پیغام

محبتِ رسول ﷺ صرف نعرہ، جذبات یا زبانی دعویٰ نہیں؛ بلکہ اس کا حقیقی ثبوت اتباعِ سنت، اطاعت، تعظیم، درود و سلام، حسنِ اخلاق، صحابہ و اہلِ بیت سے محبت، اور اپنی پوری زندگی کو تعلیماتِ نبوی ﷺ کے مطابق ڈھالنے میں ہے۔

مختصر ترین جملے میں:

> محبت کا دعویٰ زبان کرتی ہے، مگر محبت کی گواہی زندگی دیتی ہے؛ اور محبتِ رسول ﷺ کی سب سے روشن گواہی اتباعِ سنت ہے۔