ٹائم اور کلنڈر

بہتان تراشی اسلام کی نظر میں



الحمد لله رب العالمين، نحمده ونستعينه ونستغفره، ونعوذ بالله من شرور أنفسنا وسيئات أعمالنا، من يهده الله فلا مضل له ومن يضلل فلا هادي له.
وأشهد أن لا إله إلا الله وحده لا شريك له، وأشهد أن محمدا عبده ورسوله، أما بعد:

معزز سامعینِ کرام / سامعات!

زبان اللہ کی عظیم نعمت ہے، مگر یہی زبان اگر بے لگام ہو جائے تو دلوں کو توڑتی ہے، خاندانوں کو اجاڑتی ہے، اور معاشروں کو تاریکیوں میں دھکیل دیتی ہے۔
آج ہم اسی زبان کی ایک بھیانک آفت پر گفتگو کریں گے—ایک ایسا زہر جو ایمان کا نور بجھا دیتا ہے: "بہتان تراشی"۔

یہ محض ایک لفظ نہیں، یہ کسی پاک دامن کی عزت پر ناحق وار ہے، یہ کسی بے گناہ کے دامن پر کیچڑ اچھالنے کا نام ہے۔ اسلام کی نظر میں یہ وہ گھاٹا ہے جس میں قدم رکھنے والا دنیا و آخرت دونوں میں خسارے میں پڑ جاتا ہے۔
محترم سامعین و سامعات! آئیے قرآن وحدیث کی روشنی میں حرمتِ آبرو کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں 

سب سے پہلے ہم قرآن کی طرف رُخ کرتے ہیں، جو روشنی کا وہ چراغ ہے جو ہر باطل کو بے نقاب کرتا ہے۔

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

﴿وَلَا تَقْفُ مَا لَيْسَ لَكَ بِهِ عِلْمٌ﴾ (الإسراء، 17:36)
ترجمہ: “جس چیز کا تمہیں علم نہ ہو اس کے پیچھے نہ لگو۔”

یہ آیت گویا اعلانِ ربانی ہے کہ بغیر علم کے الزام لگانا، سنی سنائی بات کو دہرا دینا، اور گمان کو حقیقت بنا دینا—سب حرام ہیں۔

پھر اللہ پاک نے اہلِ ایمان کو روحانی صفائی کا ایک سنہرا اصول دیا:

ارشاد ربانی ہے ﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اجْتَنِبُوا كَثِيرًا مِّنَ الظَّنِّ إِنَّ بَعْضَ الظَّنِّ إِثْمٌ﴾
(الحجرات، 49:12)
ترجمہ: “اے ایمان والو! بہت گمانوں سے بچو، بعض گمان گناہ ہوتے ہیں۔”

یہ آیت دلوں کے جنگل میں اگنے والے اُن زہریلے کانٹوں کو کاٹتی ہے جو بلا تحقیق بہتان کی شکل اختیار کر لیتے ہیں۔

اور سب سے خوفناک وعید اس آیت میں ہے:
﴿إِنَّ ٱلَّذِینَ یَرۡمُونَ ٱلۡمُحۡصَنَـٰتِ ٱلۡغَـٰفِلَـٰتِ ٱلۡمُؤۡمِنَـٰتِ لُعِنُوا۟ فِی ٱلدُّنۡیَا وَٱلۡـَٔاخِرَةِ وَلَهُمۡ عَذَابٌ عَظِیمࣱ﴾ [النور ٢٣]

ترجمہ: “جو لوگ پاک دامن، بے خبر، مومن عورتوں پر تہمت لگاتے ہیں، وہ دنیا اور آخرت میں لعنت کے مستحق ہیں، اور ان کے لیے عظیم عذاب ہے۔”

یہ آیت انسانی عزت کو آسمانی حرمت عطا کرتی ہے۔
جو اس حرمت کو توڑے، اور انسانی عزت کا احترام نہ کرے اس کے مقدّر میں اللہ کی لعنت لکھ دی گئی ہے—دنیا میں بھی، آخرت میں بھی۔


---

آئیے سنتِ نبوی ﷺ کی روشنی میں اس معاشرتی جرم کی حقیقت کو جاننے کی کوشش کرتے ہیں 

نبی کریم ﷺ نے مسلمانوں کی آبرو کو اتنی ہی محترم قرار دیا ہے جتنی ان کی جان و مال کو۔
ارشاد فرمایا
﴿كُلُّ الْمُسْلِمِ عَلَى الْمُسْلِمِ حَرَامٌ: دَمُهُ، وَمَالُهُ، وَعِرْضُهُ﴾
(رواه مسلم، 2564)
ترجمہ: “ہر مسلمان کی جان، مال اور عزت دوسرے مسلمان پر حرام ہے۔”

یہ حدیث واضح کرتی ہے کہ بغیر تحقیق کے الزام لگانا، غیبت، بہتان، یا افواہ پھیلانا، سب حرام ہیں

یہ حدیث اعلان کرتی ہے کہ کسی مسلمان کی عزت کو مجروح کرنا، اس پر تہمت دھرنا، یا اس کے کردار پر انگلی اٹھانا—گویا اس کے خون پر وار کرنا ہے۔

ایک موقع پر نبی ﷺ نے غیبت اور بہتان کے درمیان فرق کو واضح کرنے کے لیے صحابہ کرام سے دریافت کیا:
﴿أَتَدْرُونَ مَا الْغِيبَةُ؟﴾
انہوں نے عرض کیا: اللہ اور اس کے رسول بہتر جانتے ہیں۔
آپ ﷺ نے فرمایا:

﴿ذِكْرُكَ أَخَاكَ بِمَا يَكْرَهُ﴾
ترجمہ: "غیبت یہ ہے کہ تم اپنے بھائی کا وہ ذکر کرو جو اسے ناگوار ہو۔"
صحابہ نے پوچھا: اگر وہ بات اس میں ہو تو؟
آپ ﷺ نے فرمایا:

﴿إِنْ كَانَ فِيهِ فَقَدِ اغْتَبْتَهُ، وَإِنْ لَمْ يَكُنْ فِيهِ فَقَدْ بَهَتَّهُ﴾
“اگر وہ بات اس میں ہے تو یہ غیبت ہے، اور اگر وہ بات اس میں نہیں ہے تو تم نے اس پر بہتان باندھا ہے!”
(رواه مسلم، 2589)

یعنی غیبت بھی گناہ، اور بہتان اس سے بھی زیادہ سخت گناہ۔

گویا غیبت ایک زخم ہے، جبکہ بہتان ایک تلوار—جو براہِ راست دل میں پیوست ہو جاتی ہے۔

معزز حضرات!

آئیے بہتان کے تباہ کن اثرات کو جاننے کی کوشش کرتے ہیں:
بہتان صرف ایک جھوٹا لفظ نہیں، یہ:

گھروں کی بنیادیں ہلا دیتا ہے،

بھائی بھائی کو دشمن بنا دیتا ہے،

مسجدوں میں پھوٹ ڈالتا ہے،

عزتوں کی چادریں تار تار کر دیتا ہے،

اور سب سے بڑھ کر اللہ کی رحمت سے دوری کا سبب بنتا ہے۔


یہ گناہ دلوں میں وہ آگ لگاتا ہے جس کی لپٹیں سالوں تک بجھتی نہیں۔

محترم سامعین و سامعات ائیے قران و حدیث کی روشنی میں اس معاشرتی جرم کا علاج جاننے کی کوشش کرتے ہیں 

اسلام ہمیں احتیاط، تَثَبُّت اور خاموشی کا سبق دیتا ہے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنْ جَاءَكُمْ فَاسِقٌ بِنَبَإٍ فَتَبَيَّنُوا﴾
(الحجرات، 49:6)
ترجمہ: “اگر کوئی فاسق خبر لائے تو تحقیق کر لو۔”


تحقیق کے بغیر پھیلائی گئی ہر بات یا تو غیبت ہوتی ہے یا بہتان۔

اے اہلِ اسلام!

آئیے ہم سب اپنی زبانوں کو تہمت کے گناہ سے پاک رکھیں،
اپنے دلوں کو بدگمانی سے صاف رکھیں،
اور اپنے گھروں کو اعتماد اور محبت کی خوشبو عطا کریں۔

آخر میں رسول اللہ ﷺ کی بابرکت دعا پر گفتگو ختم کرتا ہوں:

﴿اللَّهُمَّ احْفَظْنِي مِنْ بَيْنِ يَدَيَّ وَمِنْ خَلْفِي وَعَنْ يَمِينِي وَعَنْ شِمَالِي﴾

(رواه أبو داود)

اے اللہ! ہمیں ہر سمت سے اپنی حفاظت میں رکھ،
ہماری زبانوں کو پاکیزگی عطا فرما،
اور ہمارے دلوں کو نورِ ایمان سے معمور کر دے۔

آمین یا رب العالمین۔
والسلام علیکم ورحمة الله وبركاته۔

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں